Jasarat News:
2026-07-24@04:48:20 GMT

جنگ بندی: نسل کشی یا جزوی آزادی؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251016-03-6
باباالف
دوبرس کی عظیم قربانیوں کے بعد اہل غزہ پر امن کی چمکیلی دھوپ اُتری ہے۔ غزہ میں امن سانسیں لے رہا ہے۔ 13 اکتوبر کو شرم الشیخ میں امن معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد کی جارہی ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہان سمیت بیس ممالک اس تقریب میں مدعو ہیں تاکہ بیس اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو جشن کے طور پر منایا جاسکے، شیمپین کی بوتلیں کھولی جاسکیں، صدر ٹرمپ کی شان میں قصیدے پڑھے جاسکیں اور ان کی ثالثی کو ہر سائز کے خوشامد کے پنکچر لگائے جاسکیں۔

فریقین کے درمیان توازن رکھنے کو ثالثی کہا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ یہودی وجود کے حق میں ہر طرح کی نوسربازی، بے ایمانی، مالی، فوجی، سفارتی مدد، اقوام متحدہ میں اس کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو کرنے اور حماس پر جہنم کے دروازے کھولنے کی دھمکیوں کے باوجود ثالثی کے قبرستان کے مجاور ہیں۔

اے شوق وہی مے پی، اے ہوش ذرا سوجا
مہمانِ نظر اس دم، اک برق تجلی ہے

غزہ اب ملبے اور کھنڈرات کے ساتھ ساتھ مغرب کے عالمی انسانی حقوق، آزادی، مساوات اجتماعی شعور کی بیداری اور روشن خیالی کی علامت اور نشانی ہے۔ یہ سب اصطلاحات مغرب کی صدیوں کی معرکہ آرائی کا وہ حاصل ہیں جنہیں مسلمانوں کے باب میں فراموش کردیا جاتا ہے۔ غزہ جل کر مکمل طور پر خاک ہوگیا ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور اور مضبوط قوم جس کا زمین وآسمان نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے جہاں داخل ہورہی ہے۔ جو اپنے واپسی کے حق سے کسی طور دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امن انہیں تحفے میں نہیں ملا بلکہ ان کی مستقل جدوجہد، مزاحمت اور افسانوی صبر نے ہر ظالم کو جھکنے پر مجبور کیا ہے۔ شمالی غزہ سے اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ رہی ہیں تاکہ امن معاہدے پر عمل درآمد کی کارروائی کے نتیجے میں پیر کو وہ ساعت نایاب آئے جب اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوسکے۔

یہ معاہدہ امریکا، اسرائیل اور مسلم اور عرب حکمرانوں کی طرف سے حماس پر مسلط کیا گیا ہے جسے اس نے اپنے شہریوں کی نسل کشی روکنے کے لیے قبول کیا ہے۔ حماس کو غیر مسلح کرنے اور اس کی جلاوطنی کی صورت میں غزہ میں کس کی حکومت ہوگی؟ وہاں حکومت کون چلائے گا؟ معاہدے کی نگرانی کی تفصیلات کیا ہیں؟ یہ معاملات ابھی پردہ غیب میں ہیں یا شاید جان بوجھ کر مبہم رکھے گئے ہیں تاکہ انہیں امریکا اور اسرائیل کی من پسند تعبیر عطا کی جاسکے۔ فی الحال تو معاہدہ قیدیوں کی واپسی اور ایک حد تک اسرائیلی افواج کے پیچھے ہٹنے پر عمل درآمد تک محدود ہے۔ یاد رہے اسرائیلی فوج مکمل طور پر غزہ کو خالی نہیں کرے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف پہلے مرحلے پر عمل کا معاہدہ ہے۔

حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل کی موجودگی اور اس کے کنٹرول کو برقرار رکھنے کا ٹرمپ کا معاہدہ جسے امن کا مندر باور کرایا جارہا ہے دراصل قاتلوں کو انعامات دینے کا سلسلہ ہے جس کا ظاہر خوش نما لیکن اندروں چنگیز سے تاریک تر ہے جس کے اندر بے ایمانیاں، فریب اور ڈھونگ ہی ڈھونگ بھرے ہوئے ہیں۔ ایک طرف امن، امن اور امن کے نعرے ہیں دوسری طرف یہودی وجود کو بے حدوحساب اور بے پناہ اسلحے کی فراہمی جاری ہے۔ امریکا کی طرف سے یہودی وجود کو چار عرب ڈالر سے زیادہ کا اسلحہ دینے کی منظوری دی جاچکی ہے۔ اور جو مظلوم فریق ہے، جارحیت کا شکار ہے اسے غیر مسلح کرنے اور ہر طرف سے باندھنے جوڑنے اور پابند کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ مظلوم کے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہے۔ آٹھ مسلم ممالک اور عرب سربراہان جنہوں نے صدر ٹرمپ کے اس معاہدے کو قصر چاپلوسی کے ستونوں پر کھڑا کیا تھا انہوں نے حماس سے کوئی رائے لی تھی اور نہ اہل غزہ سے ہی ان کی مرضی دریافت کی تھی۔

یہ معاہدہ تب ممکن ہوا ہے جب امریکا اور اسرائیل دوبرس تک حماس کو تباہ کرنے میں ناکامی اور مایوسی کے بعد جنگ بندی کے لیے مجبور ہوئے ہیں۔ جغرافیائی سیاست، جغرافیائی عسکری نقطہ نظر اور جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے اسرائیل کچھ بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے حالانکہ وہ اس دوران ایک لاکھ ٹن سے لے کر سوا لاکھ ٹن گولہ بارود غزہ پر بمبار ی کرچکا ہے۔ جدید تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی ہے لیکن حماس پھر بھی نہ صرف سلامت ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل کو اس سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اب امن معاہدے کے ذریعے حماس کو تباہ کرنے کا مقصد حاصل کیا جائے گا۔

غیر جانبدار ادارے غزہ کے شہداء کی تعداد تین لاکھ کے قریب قرار دیتے ہیں جس کے باوجود یہودی وجود کچھ بھی حاصل نہیں کرسکا۔ اس ناکامی کے بعد اب امریکا امن معاہدے کی طشتری میں رکھ کر غزہ کو اسرائیل کو دینے کی ترکیب کررہا ہے۔ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی، فوجی کارروائیاں وقتی طور پر کم ہوں گی اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی فنڈ آئے گا‘‘۔ یہ سو فی صد جنگ بندی نہیں ہے عارضی طور پر تعطل ہے۔ جس دوران حماس اور فلسطینی مجاہدین کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی جائے گی، قابض سیکورٹی نگرانی کے زیراہتمام غزہ کی تعمیر نو ہوگی۔ مستقل جنگ بندی کب ہوگی؟ اس کے بارے میں خاموشی ہے۔ وہ بنیادی مسئلہ جو گزشتہ آٹھ دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں جنگوں کی بنیاد اور سبب ہے یعنی فلسطین کی سرزمین پر یہودی وجود کا قبضہ اس کا مصنوعی اور فرضی طور پر بھی کہیں تذکرہ نہیں۔

یہ معاہدہ محض جنگ بندی کے لیے نہیں ہے اس جنگ بندی کے پیچھے بڑے تجارتی عزائم پوشیدہ ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اکثر سرمایہ دار دوست جو رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک ہیں ان کے زیر اہتمام فلیٹوں، کیسینوز، ہوٹلز اور ساحلی ریویرا کی تعمیرات اور عرب سرمایہ داری کا ایک ملاپ سامنے لانے کا منصوبہ ہے۔ ٹونی بلیر کو لایا ہی اسی لیے گیا ہے کہ وہ غزہ کو ایک ماڈرن سٹی بناسکیں۔ غزہ کے شہریوں کے لیے نہیں، عالمی سرمایہ کاروں کے لیے۔ جنگ بندی ان سب عزائم کی تکمیل کے لیے ایک دھوکا ہے۔ جنگ بندی سیاسی فتح کے لبادے میں کاروبار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ غزہ جنگ بندی کا سیاسی فیصلہ نہیںکاروبار کرنے کے لیے موزوں ماحول کا حصول ہے۔

امن بندی معاہدے کے جشن میں یہودی وجود کے دوبرس تک کیے گئے مظالم کی کوئی تادیب، کوئی سزا، اس کا کہیں ذکر نہیں۔ یہودی وجود نے ظلم کیا! کوئی بات نہیں! آگے بڑھو۔ مظلوم پر ظلم کو، اس کے قتل عام کو، ایک معمول کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے جس کا کوئی مواخذہ نہیں۔ انصاف اور جواب دہی کے بغیر ایک تعطل کو اگر امن کا نام دیا جائے تو وہ امن نہیں بلکہ سنگین جرم اور بے ایمانی کا پردہ ہے۔ جنگی جرائم کا جواب مانگے بغیر اور نسل کشی کا حوالہ دیے بغیر امریکا امن کا جشن اس لیے منارہا ہے کیونکہ وہ ان جرائم میں نہ صرف خود شریک بلکہ شراکت دار ہے۔ امریکا ثالث نہیں ایک ایسا دخیل اور دلال ہے جو ایک طرف اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے، اہل غزہ کا قتل کرنے کی مسلسل آزادی دے رہا ہے اور دوسری طرف اس کے راستے کی واحد طاقت حماس کو امن منصوبے کے ذریعے غیر مسلح اور جلاوطن کرکے اپنے شہریوں کی قبر پر مٹی ڈالنے تک محدود کرنا چاہتا ہے۔ یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ حماس اور اہل غزہ کے پاس دو ہی آپشن ہیں نسل کشی یا جزوی آزادی!! لیکن کیا ایسا ہی ہے؟

تقدیر امم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل یہودی وجود امن معاہدے قیدیوں کی کرنے اور کرنے کی اہل غزہ حماس کو کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ