ہلاک مغویوں کی لاشوں کی حوالگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: اسرائیلی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ہلاک مغویوں کی لاشوں کی حوالگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: اسرائیلی وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 16 October, 2025 سب نیوز
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نےکہا ہے کہ حماس کو جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں ہلاک ہونے والے مغویوں کی لاشیں واپس کرنا ہوں گی۔
نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے مزید دباؤ یا کارروائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کوششیں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک آخری مغوی کی لاش واپس اسرائیل نہیں پہنچ جاتی۔
حماس نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو اسرائیل کو غزہ میں کارروائی کی اجازت دوں گا: ٹرمپ
اسرائیلی حکام نے بتایا کہ معاہدے کے تحت کچھ لاشیں واپس کی گئی ہیں مگر ابھی کئی لاشیں باقی ہیں۔
اسرائیل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر حماس معاہدے پر عمل درآمد نہ کرے تو جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ غزہ امن معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمتی تنظیم نے آج مزید 2 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
حماس نے کہا کہ یرغمالیوں کی دیگر لاشوں کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں اور خصوصی آلات کی ضرورت ہے تاکہ انہیں تلاش کر کے نکالا جا سکے اور ہم اس سلسلے میں بھرپور کوششیں کر رہے ہیں تاکہ یہ معاملہ جلد از جلد مکمل ہوسکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی وزیردفاع کا حماس کو شکست دینےکیلئے فوج کو جامع منصوبہ تیار کرنےکا حکم اسرائیلی وزیردفاع کا حماس کو شکست دینےکیلئے فوج کو جامع منصوبہ تیار کرنےکا حکم کولمبیا کا منشیات فروشوں سے ضبط کیا گیا سونا غزہ بھیجنے کا اعلان پاک بھارت جنگ میں7 طیارےگرائے گئے تھے، ٹرمپ نے پھر مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا ٹرمپ کو سنبھالنا صرف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو آتا ہے: برطانوی اخبار سعودی ولی عہد نے مکہ مکرمہ میںکنگ سلمان گیٹ منصوبے کا اعلان کردیا اسرائیل نے قید میں رکھی مزید 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کر دیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔