امریکی صدر نے پھر طیارے گرانے کا ذکر کرکے مودی سرکار کے زخم تازہ کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خوش نہیں تھا کہ بھارت روس سے تیل خریدے، مگر اب معاملہ طے ہو گیا ہے، چین کے ساتھ تجارتی جنگ جاری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اے آئی کے میدان میں چین کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے، حماس کو جنگ بندی معاہدے پرعمل کرنا ہوگا، چاہتے ہیں حماس غیر مسلح ہو، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے امریکی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
امریکی صدرکا مزید کہنا تھا کہ یوکرین جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پیوٹن کو یوکرین سے متعلق ڈیل کرنا ہوگی، اب تک 8 جنگیں رکوا چکا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے کہا میں نے لاکھوں زندگیاں بچائیں، پاکستان اور بھارت جوہری جنگ کے بہت قریب تھے، پاک بھارت جنگ میں سات طیارے گرائے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔