امریکی سینٹرل کمانڈ کا حماس سے فوری غیرمسلح ہوجانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام ) نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ امن منصوبے پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر غیرمسلح ہوجائے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایکس اکاؤنٹ پر کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ایڈمرل بریڈ کوپر نے موجودہ صورتحال کو ’ امن کے لیے ایک تاریخی موقع’ قرار دیا اور زور دیا کہ حماس کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر سختی سے عمل کرتے ہوئے، بلاتاخیر غیر مسلح ہو جائے۔
ایڈمر بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکا نے امن عمل میں شامل ثالثوں کے سامنے اپنے خدشات رکھے ہیں اور انہوں ( ثالثوں ) نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا ہے تاکہ جنگ بندی کو نافذ کیا جا سکے اور غزہ کے شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حماس نے کوپر کے بیان پر تاحال کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم تنظیم نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ ان افراد کے خلاف ہیں جو جنگ کے دوران پیدا ہونے والے حالات سے فائدہ اٹھانے والے مجرم گروہوں اور مبینہ تعاون کاروں کو نشانہ بناتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی عمل شروع کرنے پر زور دیا گیا۔
خیال رہے کہ 13 اکتوبر کو مصر کے شہرشرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کیے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پیش کیا تھا۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بیت جن پر صیہونی جارحیت کیخلاف حماس اور جہاد اسلامی کا ردعمل
اپنے ایک جاری بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات صیہونی رژیم کی خطے میں افراتفری پھیلانے کی پالیسی کا تسلسل ہیں کہ اس وقت جس کا نشانہ ہمارا برادر عرب ملک بنا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کے دارالحکومت "دمشق" کے مضافاتی علاقے "بیت جن" پر صیہونی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں فلسطین کی مقاومتی تحریک "جہاد اسلامی" نے کہا کہ بیت جن کے خلاف صیہونی جارحیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ رژیم ہمارے خطے میں عدم استحکام اور شرارت کا منبع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، جنگ کے دائرے کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم بیت جن کے عوام کی صیہونی جارحیت کے خلاف شجاعانہ مزاحمت کی تعریف کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کئی قابض فوجی ہلاک ہوئے۔ بیت جن کے عوام کی مزاحمت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف مزاحمت ہی صیہونی قبضے اور اس کی بالادستی کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب "حماس" نے بھی اس واقعے پر ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا کہ جنوبی شام کے علاقے بیت جن کے خلاف مجرمانہ صیہونی جارحیت کے نتیجے میں بچوں سمیت کئی شہریوں کی شہادت ہوئی۔ حماس نے کہا کہ یہ واقعہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے واقعات صیہونی رژیم کی خطے میں افراتفری پھیلانے کی پالیسی کا تسلسل ہیں کہ اس وقت جس کا نشانہ ہمارا برادر عرب ملک بنا ہوا ہے۔ ہم اس صیہونی جارحیت کے خلاف بیت جن کے رہائشیوں کی بہادرانہ مزاحمت کو سراہتے ہیں۔
نیز وہاں کے باشندوں کے ہاتھوں صیہونی فوجیوں کی دھلائی اور ساز و سامان کو نقصان پہنچانے کی تعریف کرتے ہیں۔ حماس نے کہا کہ ہم عرب لیگ، او آئی سی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی و علاقائی، امن و استحکام کو یقینی بنانے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خود مختاری کی اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی پامالیوں کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کریں۔ قابل غور بات ہے کہ شام پر قابض باغیوں کی جولانی رژیم کی وزارت خارجہ نے بھی اس جارحیت پر اسرائیل کے خلاف ایک علامتی بیان جاری کیا، جس میں بیت جن پر صیہونی جارحیت کی مذمت کی گئی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ اس علاقے میں جب قابض اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے وحشیانہ بمباری کا سہارا لیا۔ یاد رہے کہ آج جمعے کے روز شامی میڈیا نے رپورٹ دی کہ دمشق کے مضافات میں واقع "بیت جن" پر صیہونی فوج کے حملے کے بعد، قابض فورسز اور مقامی رہائشیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 13 شہری شہید اور 25 زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں کئی صیہونی فوجی میدان چھوڑ کر بھاگتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ تازہ ترین اطلاعات كے مطابق، اسرائیل كی اس تسلط پسندانہ كارروائی میں اس کے 11 فوجی زخمی ہو گئے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔