امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز غزہ پر منعقدہ ایک غیر نتیجہ خیز سربراہی کانفرنس میں دنیا کے مختلف رہنماؤں سے ملتے ہوئے حسبِ معمول تعریفوں، لطیفوں اور طنزیہ جملوں کا تبادلہ کیا۔ خود کو ’دنیا کا سب سے بڑا امن ساز‘ قرار دینے والے ٹرمپ نے تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے بعض رہنماؤں کی دلجوئی کی، تو کچھ کو نشانے پر لے لیا۔

برطانوی اخبار نے نہایت دلچسپ انداز میں اس تقریب کی روداد بیان کی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ امن کے حقیقی سفیر ہیں، شہباز شریف نے ایک بار پھر نوبیل انعام دینے کی درخواست کردی

ٹرمپ تقریب میں 2 گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔ کانفرنس کی طرف روانگی سے قبل اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ امیر ممالک کے رہنما تو جا چکے ہوں گے، صرف 2 غریب ملکوں کے نمائندے ہی باقی رہ جائیں گے۔‘ مگر ان کا یہ خدشہ غلط ثابت ہوا۔

پہلے مہمان کے طور پر متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید النہیان سے ملاقات میں ٹرمپ نے ان کے ’خوبصورت جوتوں‘ کی تعریف کی، اور پھر مذاقاً کہا:

’بہت زیادہ دولت ہے، بہت زیادہ نوٹوں کے بنڈل!‘ — جس پر شیخ منصور نے مسکراتے ہوئے تائید کی۔

اسی طرح ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی کو خوبصورت قرار دیتے ہوئے کہا: ’امریکا میں اگر کوئی سیاستدان ایسا کہے تو اس کا کیریئر ختم ہو جائے، مگر میں رسک لینے کو تیار ہوں۔ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ خوبصورت ہیں؟ کیونکہ آپ واقعی خوبصورت ہیں۔‘

یہ تعریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے تبصرے سے مختلف تھی، جنہوں نے میلونی سے کہا تھا کہ وہ ’بہت اچھی لگ رہی ہیں، مگر سگریٹ کم پیا کریں۔‘

ٹرمپ نے اردوان کی بھی خوب تعریف کی۔ ان کے مطابق، ’اردوان دنیا کی مضبوط ترین افواج میں سے ایک کے سربراہ ہیں۔ وہ بہت سخت مگر میرے دوست ہیں۔ نیٹو کو جب بھی ان سے مسئلہ ہو، مجھے بلایا جاتا ہے، اور وہ کبھی مایوس نہیں کرتے۔‘

ایک اور رہنما جنہیں ٹرمپ نے ’سخت مگر بہترین‘ قرار دیا، وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی تھے، جو تقریب کے باضابطہ شریکِ میزبان بھی تھے۔ سیسی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ٹرمپ نے ان کے بڑھائے گئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: ’میں اپنے دوست، ایک مضبوط رہنما اور بہترین جنرل کے ساتھ ہوں۔ یہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے، برخلاف امریکا کے، جہاں کے گورنرز کچھ نہیں جانتے۔ یہاں مصر میں لوگ جرم کے معاملے میں نرمی نہیں دکھاتے۔‘

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی اطالوی وزیراعظم سے فلرٹ کی کوششیں، میلونی نے زبردستی ہاتھ چھڑا لیا، ویڈیوز وائرل

ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان کو بھی ٹرمپ نے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’مجھے وکٹر پسند ہیں اور میں جانتا ہوں کہ بہت لوگ مجھ سے متفق نہیں، مگر میں ہی وہ واحد شخص ہوں جو اہم ہے۔‘
یہ جملہ سن کر پیچھے کھڑے عالمی رہنما، جن میں برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر بھی شامل تھے، کچھ نالاں دکھائی دیے۔

البتہ عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی کی قسمت اتنی اچھی نہیں رہی۔ ٹرمپ نے کہا: ’عراق کے پاس اتنا زیادہ تیل ہے کہ وہ نہیں جانتا اس کے ساتھ کیا کرے۔ اور یہی بڑا مسئلہ ہے‘ اس جملے کے بعد گفتگو ختم ہو گئی۔

جب اسٹارمر کی باری آئی تو ٹرمپ نے پوچھا: ’برطانیہ کا نمائندہ کہاں ہے؟‘
اسٹارمر نے ہاتھ اٹھا کر کہا: ’ہمیشہ کی طرح آپ کے پیچھے۔‘
اس کے ساتھ ہی وہ آگے بڑھے، ٹرمپ کے قریب پہنچے۔ٹرمپ نے شکریہ ادا کیا اور انہیں ہدایت کی کہ ’اپنی فطری جگہ واپس جائیں، عظیم شخصیت کے پیچھے سائے میں۔‘

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس بار اسٹیج پر آنے کے بجائے ناظرین میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’یقین نہیں آتا، آج تم نے کم نمایاں کردار منتخب کیا ہے۔ میں نے سوچا تھا تم میرے پیچھے کھڑے ہو گے۔‘

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کی تصحیح کی کہ انہوں نے غلطی سے انہیں ’صدر‘ کہہ دیا ہے۔ ٹرمپ نے فوراً کہا: ’کم از کم میں نے تمہیں گورنر تو نہیں کہا!‘

شہباز شریف نے بڑے ادب سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹا دیا

برطانوی اخبار کے مطابق تقریب کے واحد رہنما جو جانتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کیسے ڈیل کرنا ہے، وہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف تھے۔ شہباز شریف نے ٹرمپ کی اس قدر تعریفوں کے پل باندھے کہ خود امریکی صدر آگے بڑھ کر ان کی تقریر کا متن پڑھنے کی کوشش کرنے لگے مگر شہباز شریف نے بڑے ادب مگر مضبوطی سے انہیں پیچھے ہٹا دیا، اور اپنی گفتگو جاری رکھی۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی ایک بار پھر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف، شہباز شریف کو خود خطاب کی دعوت دی

 شہباز شریف نے کہا ’بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اور اگر ان (ٹرمپ) اور ان کی شاندار ٹیم کی بروقت مداخلت نہ ہوتی تو ان نازک 4 دنوں میں ایک ہولناک جنگ بھڑک سکتی تھی۔ پھر کون باقی رہتا جو اس کہانی کو سناتا؟ تاریخ نے ان کا نام سنہری حروف میں ثبت کر دیا ہے۔ خدا انہیں لمبی عمر عطا کرے تاکہ وہ اسی جذبے کے ساتھ اپنی قوم اور ملک کی خدمت جاری رکھ سکیں۔‘

اور وہ یوں ہی ٹرمپ تعریفوں کی بارش کرتے چلے گئے۔

دوسری جانب، ایک رہنما جس نے شاید سکھ کا سانس لیا، وہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان تھے، جنہوں نے اپنی عزت و وقار برقرار رکھنے کے لیے اس تقریب میں شرکت سے معذرت ہی بہتر سمجھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے امریکی صدر کرتے ہوئے ہوئے کہا کے ساتھ ٹرمپ کی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری