Jasarat News:
2026-07-24@05:09:11 GMT

نوبل انعام ۲۰۲۵، ٹرمپ کا ادھورا ڈراؤنا خواب

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251016-03-3
امیر محمد خان کلوڑ
آج نوبل انعام حاصل کرنا دنیا کی سب سے بڑی عزت سمجھی جاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم اور اچھے کام ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ اس انعام کی شروعات سویڈن کے ایک مشہور سائنس دان الفریڈ نوبل نے کی۔ وہ ۱۸۳۳ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا۔ لیکن جب لوگوں نے ڈائنامائٹ کو جنگوں میں تباہی کے لیے استعمال کیا تو الفریڈ نوبل بہت افسردہ ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ ان کا نام برے کام سے جْڑ گیا ہے، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی ساری دولت انسانیت کے کام میں لگا دیں۔ ایک دن الفریڈ نوبل نے اخبار میں ایک غلط خبر دیکھی جس میں لکھا تھا: ’’ڈائنامائٹ کا موجد مر گیا، جس نے دنیا کو تباہی دی‘‘۔

یہ پڑھ کر وہ بہت اداس ہوئے۔ انہیں احساس ہوا کہ لوگ انہیں تباہی لانے والا سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ دنیا کی بھلائی چاہتے تھے۔ اسی دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی دولت انسانیت کے کام میں لگائیں گے۔ جب وہ ۱۸۹۶ میں وفات پا گئے تو اپنی وصیت میں لکھا: ’’میری جائداد سے ایک فنڈ بنایا جائے جو ہر سال اْن لوگوں کو دیا جائے جو انسانیت کے لیے سب سے زیادہ کام کریں‘‘۔

یوں انیس سو ایک میں پہلی بار نوبل انعام دیا گیا۔ ابتدائی طور پر نوبل انعام پانچ شعبوں میں دیا گیا تھا: ۱۔ امن؛ وہ شخص یا تنظیم جو دنیا میں امن قائم کرنے میں کام کرے۔ ۲۔ ادب؛ بہترین لکھنے والے ادیب یا شاعر کو۔ ۳۔ طبیعات؛ طبیعات کے میدان میں نمایاں کارکردگی پر۔ ۴۔ کیمیا؛ کیمیا کے میدان میں تحقیق پر۔ ۵۔ طب؛ انسانی صحت اور علاج کے میدان میں۔ بعد میں چھٹا انعام بھی شامل کیا گیا: معیشت؛ یہ انعام ۱۹۵۹ میں سویڈن کے مرکزی بینک نے شروع کیا۔

۱۹۰۱ سے دو ہزار پچیس تک، نوبل انعامات تمام شعبوں میں چھے سو اٹھائیس بار دیے گئے ہیں۔ مزدوج و تنظیمی انعامات سمیت، کل ایک ہزار پندرہ افراد اور تنظیمیں انعام یافتہ ہیں۔ اب تک ایشیا کے تقریباً پینسٹھ افراد کو نوبل انعام مل چکا ہے۔ ایشیا میں جاپانی سب سے زیادہ ہیں (تقریباً بتیس)؛ اس کے بعد اسرائیل (بارہ)، بھارت (نو)، چین (آٹھ) اور پاکستان (دو) ہیں۔

اس سال دنیا میں دو سو چونتیس لوگ اور چونتیس تنظیمیں نوبل انعام کی دوڑ میں شامل تھیں۔ ان کے نام گزشتہ پچاس سال سے صیغہ راز میں رکھے جاتے ہیں اور ان کو مشتہر نہیں کیا جاتا۔ لیکن میڈیا والے بھی تاک میں رہتے ہیں اور بقول ان کے، اس دوڑ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے علاوہ یوکرائن کے صدر زیلنسکی، قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد، اور سویڈن کی بائیس سالہ دوشیزہ گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ یہ گروہ مشہور زمانہ پچاس جہازوں کے قافلے، جسے فلوٹیلا صمود کہا گیا، میں شامل تھا، جس میں چوالیس ممالک کے ہزاروں لوگ شامل تھے جو غزہ کے انسانوں سے اظہار ہمدردی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس میں ہمارے پاکستان کے مشہور سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل تھے۔

اب آتے ہیں اپنے کالم کے عنوان پر یعنی امریکی صدر ٹرمپ کی طرف۔ جیسا کہ اردو میں محاورہ ہے، ’’بلی کو خواب میں چھیچھڑے‘‘، یہ محاورہ صدر ٹرمپ پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ ایک شخص جو کہ بلواسطہ یا بلا واسطہ افغانستان کی جنگ یا شام کی خانہ جنگی یا ایران کے نیوکلیئر تنصیبات پر حملے میں شامل رہا ہو، وہ کیسے امن کے نوبل انعام کے مستحق ہو سکتا ہے؟ اگرچہ ٹرمپ نے براہ راست یہ نہیں کہا کہ انعام ان کا حق ہے، لیکن ان کے بیانات اور سابقہ ریکارڈ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ نوبل امن انعام کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں باراک اوباما کو ملنے والے نوبل انعام کو ’’کچھ نہ کرنے‘‘ کے بدلے میں دیا گیا قرار دیا تھا، اور خود کو امن کے لیے سب سے زیادہ کام کرنے والا صدر پیش کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چونگ نے نوبل کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کمیٹی نے امن پر سیاست کو ترجیح دی‘‘۔ لہٰذا، اگرچہ ٹرمپ نے یہ نہیں کہا کہ انعام ان کا حق ہے، لیکن ان کے بیانات اور ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوبل امن انعام کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ اس سال دو ہزار پچیس کا نوبل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز وینزویلا میں جمہوریت کے فروغ اور آمریت کے خلاف پرامن مزاحمت کے لیے دیا گیا ہے۔ نوبل کمیٹی نے انہیں ’’جمہوریت کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور آمریت سے جمہوریت کی طرف منصفانہ اور پرامن منتقلی کی کوششوں‘‘ کے لیے سراہا ہے۔

ماچادو اس وقت وینزویلا میں روپوش ہیں، جہاں انہیں حکومت کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ انعام وینزویلا کے عوام اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو وقف کیا ہے، جنہوں نے ان کے بقول وینزویلا میں جمہوریت کے لیے دباؤ بڑھایا۔ اس سال امن انعام کے لیے ٹرمپ کے نام کی بھی افواہیں تھیں، خاص طور پر ان کے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے تناظر میں۔ تاہم، نوبل کمیٹی نے ماچادو کو منتخب کیا اور اس فیصلے پر وائٹ ہاؤس نے تنقید کی، جسے انہوں نے ’’سیاست کو امن پر ترجیح دینا‘‘ قرار دیا۔ ماچادو کا یہ انعام وینزویلا میں جمہوریت کے لیے جاری جدوجہد کی عالمی سطح پر پذیرائی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا میں جمہوریت کے انہوں نے دیا گیا کے لیے اس سال

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل