نوبل انعام ۲۰۲۵، ٹرمپ کا ادھورا ڈراؤنا خواب
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251016-03-3
امیر محمد خان کلوڑ
آج نوبل انعام حاصل کرنا دنیا کی سب سے بڑی عزت سمجھی جاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم اور اچھے کام ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ اس انعام کی شروعات سویڈن کے ایک مشہور سائنس دان الفریڈ نوبل نے کی۔ وہ ۱۸۳۳ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا۔ لیکن جب لوگوں نے ڈائنامائٹ کو جنگوں میں تباہی کے لیے استعمال کیا تو الفریڈ نوبل بہت افسردہ ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ ان کا نام برے کام سے جْڑ گیا ہے، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی ساری دولت انسانیت کے کام میں لگا دیں۔ ایک دن الفریڈ نوبل نے اخبار میں ایک غلط خبر دیکھی جس میں لکھا تھا: ’’ڈائنامائٹ کا موجد مر گیا، جس نے دنیا کو تباہی دی‘‘۔
یہ پڑھ کر وہ بہت اداس ہوئے۔ انہیں احساس ہوا کہ لوگ انہیں تباہی لانے والا سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ دنیا کی بھلائی چاہتے تھے۔ اسی دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی دولت انسانیت کے کام میں لگائیں گے۔ جب وہ ۱۸۹۶ میں وفات پا گئے تو اپنی وصیت میں لکھا: ’’میری جائداد سے ایک فنڈ بنایا جائے جو ہر سال اْن لوگوں کو دیا جائے جو انسانیت کے لیے سب سے زیادہ کام کریں‘‘۔
یوں انیس سو ایک میں پہلی بار نوبل انعام دیا گیا۔ ابتدائی طور پر نوبل انعام پانچ شعبوں میں دیا گیا تھا: ۱۔ امن؛ وہ شخص یا تنظیم جو دنیا میں امن قائم کرنے میں کام کرے۔ ۲۔ ادب؛ بہترین لکھنے والے ادیب یا شاعر کو۔ ۳۔ طبیعات؛ طبیعات کے میدان میں نمایاں کارکردگی پر۔ ۴۔ کیمیا؛ کیمیا کے میدان میں تحقیق پر۔ ۵۔ طب؛ انسانی صحت اور علاج کے میدان میں۔ بعد میں چھٹا انعام بھی شامل کیا گیا: معیشت؛ یہ انعام ۱۹۵۹ میں سویڈن کے مرکزی بینک نے شروع کیا۔
۱۹۰۱ سے دو ہزار پچیس تک، نوبل انعامات تمام شعبوں میں چھے سو اٹھائیس بار دیے گئے ہیں۔ مزدوج و تنظیمی انعامات سمیت، کل ایک ہزار پندرہ افراد اور تنظیمیں انعام یافتہ ہیں۔ اب تک ایشیا کے تقریباً پینسٹھ افراد کو نوبل انعام مل چکا ہے۔ ایشیا میں جاپانی سب سے زیادہ ہیں (تقریباً بتیس)؛ اس کے بعد اسرائیل (بارہ)، بھارت (نو)، چین (آٹھ) اور پاکستان (دو) ہیں۔
اس سال دنیا میں دو سو چونتیس لوگ اور چونتیس تنظیمیں نوبل انعام کی دوڑ میں شامل تھیں۔ ان کے نام گزشتہ پچاس سال سے صیغہ راز میں رکھے جاتے ہیں اور ان کو مشتہر نہیں کیا جاتا۔ لیکن میڈیا والے بھی تاک میں رہتے ہیں اور بقول ان کے، اس دوڑ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے علاوہ یوکرائن کے صدر زیلنسکی، قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد، اور سویڈن کی بائیس سالہ دوشیزہ گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ یہ گروہ مشہور زمانہ پچاس جہازوں کے قافلے، جسے فلوٹیلا صمود کہا گیا، میں شامل تھا، جس میں چوالیس ممالک کے ہزاروں لوگ شامل تھے جو غزہ کے انسانوں سے اظہار ہمدردی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس میں ہمارے پاکستان کے مشہور سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل تھے۔
اب آتے ہیں اپنے کالم کے عنوان پر یعنی امریکی صدر ٹرمپ کی طرف۔ جیسا کہ اردو میں محاورہ ہے، ’’بلی کو خواب میں چھیچھڑے‘‘، یہ محاورہ صدر ٹرمپ پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ ایک شخص جو کہ بلواسطہ یا بلا واسطہ افغانستان کی جنگ یا شام کی خانہ جنگی یا ایران کے نیوکلیئر تنصیبات پر حملے میں شامل رہا ہو، وہ کیسے امن کے نوبل انعام کے مستحق ہو سکتا ہے؟ اگرچہ ٹرمپ نے براہ راست یہ نہیں کہا کہ انعام ان کا حق ہے، لیکن ان کے بیانات اور سابقہ ریکارڈ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ نوبل امن انعام کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں باراک اوباما کو ملنے والے نوبل انعام کو ’’کچھ نہ کرنے‘‘ کے بدلے میں دیا گیا قرار دیا تھا، اور خود کو امن کے لیے سب سے زیادہ کام کرنے والا صدر پیش کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چونگ نے نوبل کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کمیٹی نے امن پر سیاست کو ترجیح دی‘‘۔ لہٰذا، اگرچہ ٹرمپ نے یہ نہیں کہا کہ انعام ان کا حق ہے، لیکن ان کے بیانات اور ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوبل امن انعام کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ اس سال دو ہزار پچیس کا نوبل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز وینزویلا میں جمہوریت کے فروغ اور آمریت کے خلاف پرامن مزاحمت کے لیے دیا گیا ہے۔ نوبل کمیٹی نے انہیں ’’جمہوریت کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور آمریت سے جمہوریت کی طرف منصفانہ اور پرامن منتقلی کی کوششوں‘‘ کے لیے سراہا ہے۔
ماچادو اس وقت وینزویلا میں روپوش ہیں، جہاں انہیں حکومت کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ انعام وینزویلا کے عوام اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو وقف کیا ہے، جنہوں نے ان کے بقول وینزویلا میں جمہوریت کے لیے دباؤ بڑھایا۔ اس سال امن انعام کے لیے ٹرمپ کے نام کی بھی افواہیں تھیں، خاص طور پر ان کے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے تناظر میں۔ تاہم، نوبل کمیٹی نے ماچادو کو منتخب کیا اور اس فیصلے پر وائٹ ہاؤس نے تنقید کی، جسے انہوں نے ’’سیاست کو امن پر ترجیح دینا‘‘ قرار دیا۔ ماچادو کا یہ انعام وینزویلا میں جمہوریت کے لیے جاری جدوجہد کی عالمی سطح پر پذیرائی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا میں جمہوریت کے انہوں نے دیا گیا کے لیے اس سال
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو