Juraat:
2025-11-30@12:06:38 GMT

بھارتی و افغانی، باہم شیروشکر

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

بھارتی و افغانی، باہم شیروشکر

ریاض احمدچودھری

بھارت نے افغان دارالحکومت کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعہ کو تصدیق کی کہ کابل میں موجود تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی کے دورے پر پہنچے، جو 2021 کے بعد طالبان رہنماؤں کا بھارت کا پہلا باضابطہ دورہ ہے۔ جے شنکر نے ملاقات کے دوران کہا کہ بھارت افغانستان کی خودمختاری، سالمیت اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون افغانستان کی ترقی اور خطے کے استحکام میں مددگار ثابت ہوگا۔
امیر خان متقی چھ روزہ دورے پر ہیں جس کا مقصد دو طرفہ تعلقات، بالخصوص اقتصادی اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں سیاسی، اقتصادی اور تجارتی امور پر بات چیت متوقع ہے۔امیر خان متقی کا دلورہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی کی جانب سے سفری پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد ممکن ہوا۔ وہ ان طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جن پر اقوام متحدہ کی جانب سے سفری اور مالی پابندیاں عائد ہیں، تاہم سفارتی مقاصد کے لیے بعض اوقات استثنیٰ دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے 2022 میں کابل میں محدود پیمانے پر ایک مشن قائم کیا تھا ،تاکہ انسانی اور طبی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس وقت کابل میں چین، روس، پاکستان، ایران اور ترکی سمیت کئی ممالک کے سفارت خانے کام کر رہے ہیں، تاہم روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیا ہے۔ بھارت نے تاحال طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر افغان ہم منصب سے ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ بھارت، کابل میں اپنے تکنیکی مشن کو اپ گریڈ کر کے اسے سفارتخانے میں تبدیل کرے گا۔ بھارتی اخبار نے جے شنکر کے حوالے سے لکھا کہ ‘آپ کا دورہ بھارت، افغانستان کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے میں ایک اہم پیش رفت ہے، افغانستان کے عوام کے خیر خواہ کی حیثیت سے بھارت آپ کی ترقی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، آ:ج میں اس دیرینہ شراکت داری کی توثیق کرتا ہوں جو افغانستان میں متعدد بھارتی منصوبوں کی مدد سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہے’۔
بھارت نے افغانستان کے ساتھ اپنے مکمل سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے کابل میں اپنے ٹیکنیکل مشن کو باضابطہ طور پر سفارت خانے کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارت پہلے ہی افغانستان میں کئی ترقیاتی منصوبوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے مزید چھ نئے منصوبوں کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے۔جے شنکر نے افغانستان میں صحت کے شعبے میں بھارت کی معاونت کا ذکر کیا، خاص طور پر کووڈـ19 کی وبا کے دوران، اور خیر سگالی کے طور پر 20 ایمبولینسز عطیہ کرنے کا اعلان کیا، اس کے علاوہ بھارت جدید طبی آلات، ویکسین اور کینسر کی ادویات کی فراہمی بھی کرے گا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کو ہوا دینے والا سب سے بڑا سہولت کاربن چکا ہے لیکن پاکستان کسی صورت افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے نہیں دے گا۔ طالبان حکومت کی کارروائی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ طالبان حکومت بھارتی ملی بھگت سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں نہ کرے۔ پاکستان کی سالمیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ دہشت گرد اور طالبان باز نہ آئے تو دہشت گردوں کے خلاف پاکستان اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
پاک فوج نے طالبان حکومت سے فوری اور قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرے۔ پاکستانی قوم اور ریاست اْس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ طالبان حکومت کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ اشتعال انگیز کارروائی اس وقت ہوئی جب طالبان کے قائم مقام وزیرخارجہ بھارت کے دورے پر ہیں۔واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کی جانب سے بلا اشتعال حملہ کیا گیا۔ پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔قوم کے بہادر سپوتوں نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال حملوں کا مؤثر جواب دیا۔ جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد افغان طالبان اور خارجی ہلاک کر دیے گئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 23 سپوت شہید اور 29 زخمی ہوئے۔شہری جانوں کے تحفظ، غیر ضروری نقصان سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔ پاک فورسز کی جوابی کارروائی میں بڑی تعدادمیں افغان طالبان اور خارجی زخمی بھی ہوئے۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 21 افغان پوزیشنز پر قبضہ کرلیا گیا۔
بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے دو مسلم ملکوں کو لڑوا دیا۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر پر جوابی حملے میں کئی ٹھکانوں کو تباہ ،کارروائی کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے والا اسپن بولدک سیکٹر میں افغان طالبان کا عصمت اللہ کرار کیمپ مکمل تباہ اور 21 چوکیوں پر قبضہ کرکے سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: افغان طالبان طالبان حکومت کی جانب سے کہ بھارت کابل میں نے افغان بھارت نے پاک فوج کے لیے کے بعد

پڑھیں:

دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ

2025 اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر دہشت گردی کے واقعات میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں۔ گزشتہ سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کے ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنا دیا
اس طرح ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔ اس واقعے میں کم از کم تین سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ کئی دہشت گرد مارے گئے۔ ایک خودکش حملہ
آور نے عمارت کے داخلی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا، جبکہ اس وقت سینکڑوں اہلکار ایف سی ہیڈکوارٹر کے اندر موجود تھے۔یہ حملہ اسی
نوعیت کے اس حملے سے مشابہ تھا جو رواں ماہ کے آغاز میں وانا کیڈٹ کالج پر کیا گیا تھا، جہاں دہشت گرد کسی بڑے نقصان سے پہلے ہی مار
دیے گئے تھے۔ جہاں تک پشاور حملے کے ذمہ داروں کا تعلق ہے، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں افغان شہری ملوث تھے، جب کہ بعض
تجزیہ کاروں نے جماعت الاحرار جو کالعدم ٹی ٹی پی کا دھڑا ہے کی شمولیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اگر واقعی جماعت الاحرار ملوث ہے اور
اس کے اشارے موجود ہیں تو یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ اس گروہ نے متعدد خونی حملے کیے ہیں، جن میں جنوری 2023 کا پشاور پولیس لائنز سانحہ بھی شامل ہے۔

صوبائی دارالحکومت کے وسط میں ایک محفوظ تنصیب کو نشانہ بنا لینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سیکورٹی
فورسز کو خفیہ معلومات کے حصول اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لانا ناگزیر ہے۔ دہشت گرووں کی جانب سے
پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والایہ حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا
خطرہ نہ صرف موجود ہے بلکہ اپنی پوری شدت کے ساتھ ملک کی سلامتی اور امن کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ حملہ صرف ایک عمارت یا چند افراد پر نہیں
تھا، بلکہ یہ پاکستان کی ریاست، اس کے اداروں اور اس کی سالمیت پر حملہ تھا۔دہشت گردوں کے عزائم ہمیشہ سے یہی رہے ہیں کہ وہ خوف
پھیلائیں، ریاست کو کمزور دکھائیں اور دنیا کو باور کرائیں کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہے، مگر اس بار بھی، ہمیشہ کی طرح، ہمارے سیکیورٹی
اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کر کے نہ صرف حملے کو محدود کیا بلکہ تینوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے دشمن کے ارادے خاک میں ملا
دیے۔یہ امر نہایت قابل توجہ ہے کہ3 مسلح دہشت گرد بغیر کسی رکاوٹ یا چیکنگ کے حساس ادارے کے قریب ت کیسے پہنچ گئے، اگرچہ
سیکورٹی فورسز نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ ناکام بنایا، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے عناصر شہر کے اندر تک کیسے داخل ہوئے؟

موٹر سائیکل کی برآمدگی، دستی بموں اور کلاشنکوفوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ حملہ نہایت منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔پاکستان میں دہشت
گردی کی نئی لہر کا براہِ راست تعلق افغانستان کی موجودہ صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ افغانستان کی سرزمین
پچھلے کئی برسوں سے پاکستان مخالف گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا کردار ادا کر رہی
ہے۔افغانستان کی عبوری حکومت نے دنیا سے وعدے کیے تھے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے
گی، لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ، ان کے حملوں کی
شدت اور اسلحے کی جدید اقسام کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اب محض چند چھوٹے
گروہوں کا کھیل نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے منظم نیٹ ورک، تربیت یافتہ عناصر اور ریاست مخالف ایجنڈے کو پروان چڑھانے والی قوتیں
سرگرم ہیں افغانستان اور بھارت کا تعلق اس معاملے میں بھی بار بار زیرِ بحث آ رہا ہے۔

یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ بھارت خطے
میں پاکستان کو کمزور کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے اور افغانستان اس کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ افغانستان میں بھارتی
اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اور بھارت کی جانب سے وہاں کیے گئے سرمایہ کاری کے نام پر ایسے ڈھانچے قائم کیے گئے جن کا مقصد
پاکستان مخالف کارروائیوں کو سہولت دینا تھا۔ آج بھی، جب خطے کی صورتحال بدل چکی ہے، بھارتی نیٹ ورک مختلف روپوں میں فعال ہیں
اور وہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کی
مجموعی امن و استحکام کے لیے بھی تشویش ناک امر ہے۔پاکستان نے افغانستان کے لیے ہمیشہ اپنا دامن خیرسگالی سے بھرا رکھا۔ لاکھوں
افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر افغان امن مذاکرات کی حمایت تک، پاکستان نے ہر موڑ پر خیر خواہی ثابت کی لیکن افغان عبوری
حکومت کی جانب سے اس کا جو بدلہ دیا جا رہا ہے، وہ افسوسناک ہے۔ سرحد پار سے بڑھتی دہشت گردی، پاکستان مخالف دھڑے مضبوط
ہونے، اور افغان سرزمین کے دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے جیسے اقدامات نہ صرف اعتماد کے رشتے کو مجروح کر رہے ہیں بلکہ
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔افغانستان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے
کے عزائم رکھنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہے گا تو وہ خود بھی طویل المدتی نقصان سے نہیں بچ سکے گا۔ دہشت گرد کسی کے وفادار نہیں
ہوتے، وہ صرف تباہی کی زبان سمجھتے ہیں، اور اگر انھیں وقت پر لگام نہ ڈالی گئی تو ان کا رخ بغاوت اور خونریزی کی طرف ہی ہوتا ہے، جس
سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہتا۔بعض حکام نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ دہشت گردوں کو اندر سے معلومات فراہم کی گئی ہوں اس پہلو
کی مکمل تفتیش ضروری ہے۔رواں سال دہشت گردی کے واقعات کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے؛ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے
زیادہ متاثر رہے ہیں۔ایک تخمینے کے مطابق ستمبر تک 950 سے زائد حملوں میں 2,400 سے زیادہ افراد جان سے جا چکے تھے۔ اگر اس
خطرناک رجحان کا رخ پلٹنا ہے تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل بیٹھ کر مؤثر انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی۔افغان طالبان
پر یہ شبہ اب تقویت پکڑ رہاہے کہ وہ بعض شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں، یہ معاملہ کابل سے بہتر تعلقات کے سامنے سب سے
بڑی رکاوٹ ہے، اور پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے افغان حکام پر دباؤ جاری رکھنا چاہیے۔ مگر ہمیں صرف دوسروں کے
قدم اٹھانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اپنی سیکورٹی صلاحیتیں اور بارڈر مینجمنٹ مضبوط کرنا ضروری ہے۔ عسکری و سول اداروں کو مل کر قبل اس کے کہ یہ مزید خون بہائے اس دہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنا ہوگا۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج
  • بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن
  • افغان طالبان  دہشت گردوں کے سہولت  کار : ڈی  جی آئی ایس پی آر 
  • افغانستان بطور عالمی دہشتگردی کا مرکز، طالبان کے بارے میں سخت فیصلے متوقع
  • دہشت گردی اور افغانستان
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی
  • وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ