محبت میں دیوانی لڑکی نے اپنے عاشق کی لاش سے شادی کر کے سب کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناندیڑ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اپنے عاشق کی لاش سے شادی کر کے سب کو حیران کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق لڑکی جس کا نام انچل ہے اور اس کا مقتول عاشق سکشم تھا، دونوں گزشتہ تین سال سے ریلیشن میں تھےاور شادی کرنا چاہتے تھے لیکن انچل کے گھر والے اس رشتے کے خلاف تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق محبت کرنے والے اس جوڑے کی زندگی اس وقت المناک موڑ پر پہنچی جب لڑکی کے گھر والوں نے رشتے کی مخالفت میں لڑکی کے عاشق کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
عاشق قتل کیے جانے کے بعد انچل نامی لڑکی اپنے مقتول عاشق کے گھر پہنچی اور آخری رسومات سے کچھ دیر قبل اپنے ماتھے پر سندور لگا کر خود کو اس کی دلہن بنا لیا۔
رپورٹ کے مطابق لڑکی کے والد نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ سکشم کے سر میں گولی مار کر قتل کیا جبکہ مقتول سکشم لڑکی کے بھائی کا دوست تھا اور حال ہی میں جیل سے رہا ہوا تھا۔
پولیس نے چند گھنٹوں میں ملزم اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر لیا، پولیس کے مطابق ملزم اور سکشم دونوں کا مجرمانہ پس منظر ہے جبکہ قتل سے تقریباً دو گھنٹے پہلے لڑکی کی ماں جے شری مرنے والے کے گھر گئی تھی اور اسے دھمکیاں دی تھیں۔
انچل نے میڈیا کو بتایا کہ میں تین سال سے سکشم سے تعلق میں تھی اور میری فیملی اس رشتے کے خلاف تھی، اگرچہ سکشم اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن میں زندگی بھر اس کی بیوی رہوں گی۔
یہ واقعہ معاشرتی اور انسانی جذبے کی ایک انتہائی منفرد اور دردناک مثال ہے ایک عورت نے اپنے جذبۂ محبت کو معاشرتی دباؤ، خاندانی مخالفت اور عادی حقائق کی نفی کے باوجود ایسی صورت میں ثابت کیا جس نے تمام سماج کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق لڑکی کے نے اپنے کے گھر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔