پاک فوج کا قندھار، کابل میں فضائی حملہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
افغان طالبان کے کئی بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ،فوج نے ہیڈکوارٹر نمبر 4 اور 8 سمیت بارڈر بریگیڈ نمبر 5 کے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا، تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کئے،سیکیورٹی ذرائع
پاکستان نے صوبہ قندھار اور کابل میں خالصتاً افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے کئی بٹالین ہیڈکوارٹر تباہ کردیے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے قندھار میں افغان طالبان بٹالین ہیڈکوارٹرنمبر 4، 8 بٹالین اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5 کے اہداف کو نشانہ بنایا، یہ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کئے گئے جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے اور کامیابی سے تباہ کئے گئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کابل میں فتنہ الہندوستان کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔دوسری جانب پاک فوج کی اسپن بولدک، چمن سیکٹر میں بھرپور جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے ، جنگ بندی کی درخواست بھی کردی۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔جوابی کارروائی میں افغان طالبان اور فتن الخوارج کے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، پاک فوج کی جانب سے متعدد افغان طالبان پوسٹیں ، ٹینکس بمعہ عملہ کو بھی نشانہ بنا یا گیا۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ شکست خوردہ افغان طالبان کا سوشل میڈیا پر پاک فوج کے جنگی ہتھیاروں کو قبضے میں لینے کی من گھڑت ویڈیوز جاری کر رہا ہے۔سوشل میڈیا پر افغان طالبان کی جانب سے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں میں صداقت نہیں۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاک فوج افغان طالبان اور فتن الخوارج کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں، جاریت کا جواب شدید اور توقع سے بڑھ کر ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: افغان طالبان اور نشانہ بنایا پاک فوج
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔