طالبان حکومت کو خطے میں قیام امن اپنا کردار ادا کرنا ہوگا:ترجمان دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہےکہ افغان طالبان کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا مقصد تعمیری بات چیت کے ذریعے مسئلےکا مشکل مگر قابل عمل حل تلاش کرنا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اسلام آباد میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنایا.
شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بھارتی سرزمین سے پاکستان کے خلاف بیانات کی مذمت کرتا ہے. دفتر خارجہ کے مطابق امیر خان متقی نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کے معاملے کو دوسری جانب موڑنے کی ناکام کوشش کی۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان میں فتنۃ الخوارج، فتنہ الہندوستان کی موجودگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا. دہشت گرد کیخلاف کارروائیاں، مشترکہ کاوش ہونی چاہیے، بجائے اس کے، آپ اپنی زمہ داریوں سے منہ موڑ لیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکام کو اپنے ان وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا، جو انہوں نے اپنی زمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے کیے تھے. طالبان حکومت کو خطے میں قیام امن اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ 4 دہائیوں کے دوران بھائی چارے اور پڑوسی ہونے کے ناطے 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی.اس کے باوجود ہمیں افغان سرزمین سے دہشتگردی کا بوجھ اُٹھانا پڑ رہا ہے. پاکستان چاہتا ہے کہ افغان حکام وہاں موجود دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔پاکستان نے افغانستان اور بھارت کے مشترکہ اعلامیہ پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا. جس میں جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بتایا گیا تھا. انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہونا چاہیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے نگران افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے اُس بیان کی بھی مذمت کی. جس میں امیر خان متقی نے کہا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان نے متعدد بار دہشت گردوں کے حوالے سے افغان حکومت کے ساتھ تفصیلات شیئر کیں، تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ مصر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مصر میں غزہ امن معاہدے کے تقریب میں وزیراعظم نے شرکت کی. اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔حالانکہ پروگرام کے شیڈول کے مطابق امریکی صدر نے ہی تقریب سے خطاب کرنا تھا، شہباز شریف نے اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سمیت دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان کہ پاکستان نے شفقت علی خان دفتر خارجہ انہوں نے کے خلاف نے کہا
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔