data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے کی گئی درخواست پر عارضی جنگ بندی میں توسیع کردی ہے،  یہ فیصلہ دوحہ میں جاری مذاکرات کے دوران فریقین کی باہمی رضامندی سے کیا گیا ہے تاکہ مذاکرات کے عمل کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھا جا سکے، دوحہ مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی برقرار رہے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان عارضی جنگ بندی کو دوحہ میں جاری مذاکرات کے اختتام تک بڑھا دیا گیا ہے،  یہ توسیع افغان طالبان حکومت کی باضابطہ درخواست پر دی گئی ہے،  پاکستان نے اس اقدام کو خیرسگالی اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے طور پر لیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق 48 گھنٹے کی ابتدائی جنگ بندی جمعرات کی شام 6 بجے ختم ہو رہی تھی تاہم اسے توسیع دے کر فریقین نے ایک مرتبہ پھر سفارتی عمل کو موقع دیا ہے،  اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہفتے کے روز شروع ہونے کی توقع ہے جن میں سیکیورٹی تعاون، سرحدی استحکام، اور دہشت گردی کے انسداد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک امن کا خواہاں ہے اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو باہمی احترام اور سلامتی کے اصولوں پر استوار دیکھنا چاہتا ہے۔

حکام کے مطابق دوحہ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی خلاف ورزیوں، دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں سے متعلق تحفظات پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا،  افغان سرزمین سے فائرنگ کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

پاکستان نے الزام عائد کیا تھا کہ سرحدی علاقوں میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان طالبان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، تاہم کابل نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

دو روز قبل افغانستان کی درخواست پر پاکستان نے 48 گھنٹے کی ابتدائی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو موقع دیا جا سکے۔

اب فریقین کی رضامندی سے اس جنگ بندی میں مزید توسیع کردی گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ دوحہ مذاکرات کے اختتام پر فریقین کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طالبان حکومت افغان طالبان درخواست پر مذاکرات کے پاکستان نے

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟