افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر فائربندی برقرار، اسپن بولدک میں حالات معمول پر آنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسپن بولدک میں حالات معمول پر آنے لگے جنگ بندی دیرپا ثابت نہیں ہو گی، پاکستانی وزیر دفاع
افغانستان سے فائربندی دیرپا نہیں ہوگی، خطرہ بدستور موجود، خواجہ آصف
پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ فائربندی محض وقتی ہے اور اس کے دیرپا ہونے کے امکانات کم ہیں۔
ان کے مطابق سرحد پار سے حملوں کا خطرہ اب بھی برقرار ہے اور پاکستان اپنی سرحدی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔پاکستانی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اس وقت بھارت کی ایک پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ افغان طالبان کے ’جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے، تاہم وہ اس وقت بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں‘۔
خواجہ محمد آصف نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ فائربندی خوش آئند ضرور ہے مگر پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ کابل میں طالبان حکومت کو افغان سرزمین کے پاکستان مخالف گروہوں کے ذریعے استعمال کو روکنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اگر دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا تو ’’جوابی کارروائی ناگزیر ہو جائے گی۔
‘‘پاکستانی وزیر دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب اسپن بولدک اور چمن کے درمیان فائر بندی کے بعد حالات کچھ حد تک معمول پر آئے ہیں۔ دونوں ممالک نے 48 گھنٹوں کے لیے فائربندی پر اتفاق کیا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
خواجہ محمد آصف کے اس تازہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسلام آباد کو افغانستان میں طالبان حکومت کی نیت پر مکمل اعتماد نہیں اور حکومت آئندہ کسی بھی پیش رفت سے متعلق محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر فائربندی برقرارپاکستان اور افغانستان دونوں نے ہی تصدیق کی ہے کہ رات بھر کسی نئی جھڑپ کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ افغانستان کے سرحدی علاقے اسپن بولدک میں معمولات زندگی بحال ہونے لگے ہیں۔ یہ وہی سرحدی علاقہ ہے، جو حالیہ دنوں میں شدید لڑائی کا مرکز رہا۔
مقامی میڈیا نے بتایا کہ اس علاقے میں دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں جبکہ وہ شہری واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں، جو جھڑپوں کے دوران وہاں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے تھے۔
اسلام آباد کے مطابق اڑتالیس گھنٹوں کی اس فائربندی کا مقصد ’’تعمیری مذاکرات کے ذریعے ایک مثبت حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔‘‘
پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر ایک بار پھر شدت پسندانہ حملوں کا سامنا ہے، جن کی قیادت پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی گروہ کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل میں طالبان حکومت ان جنگجوؤں کو افغان سرزمین پر پناہ دے رہی ہے، تاہم کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر فولکر ترک نے اس فائربندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’’شہریوں کو مزید نقصان سے بچائیں اور ایک پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔‘‘
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسپن بولدک وزیر دفاع کے لیے
پڑھیں:
تاجکستان کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے ڈرون حملہ؛3چینی باشندے ہلاک
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دوشنبہ: تاجکستان کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تاجکستان کی سرحد میں استقلال پوسٹ کی حدود میں قائم مزدوروں کے کیمپ پر افغانستان سے ڈرون حملہ ہوا جس میں تین چینی باشندے ہلاک ہوگئے۔
وزارتِ خارجہ تاجکستان کے مطابق 26 نومبر کی رات کو افغانستان کی حدود سے حملہ کیا گیا جس میں گرنیڈ اور اسلحہ لگا ڈرون استعمال ہوا جس میں ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے تین چینی باشندے مارے گئے۔مزدوروں کا یہ کیمپ ’یول‘ بارڈر ڈٹachment کے علاقے میں فرسٹ بارڈر گارڈ پوسٹ ’استقلال‘ کے کنٹرول میں واقع تھا۔
تاجک حکام نے بتایا کہ وہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں، لیکن افغانستان میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے امن کے لیے خطرات مسلسل جاری ہیں۔
تاجکستان نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گرد گروپوں کے ان اقدمات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور افغان حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحد پر امن اور استحکام کو یقینی بنائیں۔
تاجک وزارتِ خارجہ نے افغان حکام پر زور دیا کہ دونوں ہمسائیوں کے سرحد کی سیکیورٹی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔