وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی دورہ امریکا میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دورہ امریکا کے دوران اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
وزیر خزانہ نے امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے سی ای او بینجمن بلیک سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران امریکا کے ساتھ سرمایہ کاری تعلقات مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی گئی۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے تیل و گیس، معدنیات، زراعت، آئی ٹی اور دواسازی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالی، وزیر خزانہ نے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاقِ رائے کی موجودگی کا ذکر کیا۔
وزیر خزانہ نے ڈی ایف سی کی جانب سے نجی شعبے کی قیادت میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دلچسپی کا خیر مقدم کیا۔
اس کے علاوہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے باروارز فورم راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کرتے ہوئے قرضوں کی ادائیگیوں اور سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے درمیان توازن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے فورم کے قیام کو اجتماعی عمل، علم کے تبادلے اور پالیسی ہم آہنگی کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
انہوں نے بہتر قرضوں کے نظم و نسق، تکنیکی استعداد میں اضافے، اور پائیدار مالی وسائل تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موسمیاتی استحکام اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آذربائیجان کے نائب اول وزیر خزانہ انار کریموف سے بھی ملاقات کی، ملاقات کے دوران انہوں نے دونوں ممالک کے مضبوط معاشی اور تزویراتی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیر خزانہ نے آذربائیجان کو COP29 کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔
وزیر خزانہ نے پاکستان۔آذربائیجان ترجیحی تجارتی معاہدہ (جنوری 2025) اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ (دسمبر 2024) کو دو طرفہ تجارت کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط پیش رفت قرار دیا۔
ان معاہدوں سے تیل اور چاول جیسے روایتی آئیٹمز سے مزید آگے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، کیمیکل، مشینری اور زرعی مصنوعات تک تجارت کو وسعت ملے گی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب سرمایہ کاری
پڑھیں:
پاکستان پیداواری ملک نہیں صارف منڈی بن رہا ہے!
پاکستان گزشتہ کئی سال سے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، اور ان کوششوں میں کچھ کامیابیاں بھی ہوئی جس کا اندازہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ ایم او یوز پر دستخطوں سے لگایا جاسکتاہے لیکن معیشت کا بغور جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوتاہے کہ اس مقصد کے تحت کی گئی کوششوں سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد محدود ہی رہے ہیں۔
مختلف ممالک کے سرمایہ کاری کے حوالے سے کئے جانے والے معاہدوں کے باوجود اب تک نہ صرف ملک میں کوئی نئی صنعت قائم نہیں ہوسکی بلکہ موجود کارخانے بھی بند ہو رہے ہیں اور سرمایہ کا اپنا سرمایہ سمیٹ کر اپنا قبلہ تبدیل کررہے ہیں، نئی صنعتیں قائم نہ ہونے کی وجہ سے ہماری برآمدات کمزور ہیں اور ملک اپنی ضرورت سے زیادہ درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔لاہور جرنل آف اکنامکس میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کم آ رہی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سرمایہ کاری کس نوعیت کی ہو رہی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کو ایک بڑھتی ہوئی صارف منڈی کے طور پر دیکھتی ہیں یعنی وہ یہاں مصنوعات فروخت کرنے آتی ہیں، نہ کہ صنعت اور برآمدی صلاحیت بڑھانے میں مدد دینے۔ نتیجتاً پاکستان غیر ملکی اشیا کے لیے ایک بڑی منڈی بنتا جا رہا ہے، مگر ایک مضبوط پیداواری مرکز نہیں بن رہا۔تحقیق کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری جب بینکاری، ٹیلی کام، ریٹیل نیٹ ورکس اور مواصلاتی خدمات جیسے شعبوں میں آتی ہے تو یہ سرمایہ کاری ان کمپنیوں کے لیے تو فائدہ مند ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی پیداواری قوت اور عالمی مقابلے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ نہیں کرتی۔ ان شعبوں کا انحصار درآمدی مشینری، ٹیکنالوجی اور خدمات پر ہوتا ہے، جس سے درآمدی بل بڑھتا ہے۔ بظاہر انڈسٹری کا ایک حصہ منافع کماتا رہتا ہے، مگر قوم کے پاس آنے والے ڈالر کم اور باہر جانے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ یوں پاکستان عالمی اداروں کے لیے ایک منافع بخش منڈی تو بن جاتا ہے، مگر مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں عالمی مقابلہ کار نہیں بن پاتا۔اس کے مقابلے میں تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی سرمایہ کاری پیداواری شعبوں میں ٹیکنالوجی، استعداد اور کارکردگی بڑھانے پر مرکوز ہو جیسے ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، دھاتیں، کیمیکل اور انجینئرنگ تو پاکستان کی برآمدات اور جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ شعبے پاکستان میں پہلے سے موجود ہیں اور کئی دوسرے صنعتی سلسلوں سے جڑے بھی ہیں۔ جب ان شعبوں میں ٹیکنالوجی بہتر ہوتی ہے تو فائدہ صرف ایک صنعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری سپلائی چین، افرادی قوت اور متعلقہ شعبے مضبوط ہوتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر ان پیداواری شعبوں میں ٹیکنالوجی اپ گریڈ کی جائے تو برآمدات میں واضح اضافہ ہو سکتا ہے اور درآمدی انحصار کم ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کھپت نہیں بلکہ پیداوار کے ذریعے ترقی کرے گا۔تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان کو سرمایہ کاری کا انتخاب سمجھداری سے کرنا چاہئے۔سرمایہ کاری ایسے شعبوں میں آنی چاہیے جو کارخانے قائم کریں، ہنرمند روزگار پیدا کریں اور پاکستان کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنائیں نہ کہ صرف مقامی صارفین کو زیادہ چیزیں فروخت کریں۔ حکومت کو ایسی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو نئی ٹیکنالوجی لائیں، مقامی صنعت کی کوالٹی بہتر بنائیں اور عالمی سپلائی چین سے جڑنے میں مدد دیں ۔ اس کے لیے برآمدی صنعتوں کے لیے بہتر مراعات، واضح قوانین، کاروباری لاگت میں کمی اور ایک ایسا ماحول ضروری ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں مل کر آگے بڑھیں، نہ کہ ایک دوسرے پر حاوی ہوں ۔پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم سرمایہ کاری کو صرف صارف خدمات تک محدود رکھتے رہے تو ہم غیر ملکی اشیا کی منڈی تو بڑھا لیں گے مگر اپنی صنعتی بنیاد مضبوط نہیں کر سکیں گے۔ لیکن اگر سرمایہ کاری کو پیداوار اور برآمدات بڑھانے کی سمت دیں تو پاکستان ایک زیادہ مضبوط اور پائیدار معاشی ڈھانچے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔تحقیق کا نتیجہ واضح ہے ،پاکستان کو صرف غیر ملکی سرمایہ نہیں بلکہ وہ سرمایہ چاہیے جو پاکستان کو پیداواری قوت اور صنعتی خود کفالت دے اگر ہم موجودہ راستے پر چلتے رہے تو ڈالر جائیں گے، صنعتیں کمزور ہوں گی اور مواقع ضائع ہوں گے۔فیصلہ سادہ ہے مقامی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کرو یا دوسروں پر انحصار کرتے رہو۔
٭٭٭