افغان طالبان دباؤ میں، بھارت کی طرح جھوٹ بول رہے ہیں، تجزیہ کار
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا یہ خیال ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس کے اثرات کابل پر واضح ہوں گے اور منفی اثرات دلی تک محسوس کئے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض (سابق کمانڈر سدرن کمانڈ ملٹری ایکسپرٹ) نے کہا ہے کہ اس وقت افغان طالبان رجیم بہت انڈر پریشر ہے وہ سوشل میڈیا پر بھارت کی طرح سے جھوٹ در جھوٹ بول رہی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ ان کو کارروائی کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ملا، ان کے اوپر سخت پریشر ہے کہ جو کچھ اس نے پاکستان کے ساتھ کیا یہ غلط ہے اور اس کا نقصان افغانستان کے لوگوں کو ہے۔اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں بہت سارے ایسے لوگ اور عوامل ہیں جو افغان طالبان رجیم کو پسند نہیں کرتے دوسرا آپ نے بھارتی پراکسیز کو بھی رکھا ہوا ہے جس کے باعث اب وہ پریشر افغان رجیم پر بڑھ رہا ہے تو اس ہزیمت کو چھپانے کے لیے اس کی توجہ دوسری جانب مبذول کروانے کے لیے انہوں نے ایک اور کارروائی کی جس کا جواب پہلے جواب سے زیادہ سخت ان کو ملا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا یہ خیال ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس کے اثرات کابل پر واضح ہوں گے اور منفی اثرات دلی تک محسوس کئے جائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام خطے کے ممالک اور جو خطے سے باہر بھی ہیں وہ چند ممالک اس خطے میں استحکام چاہتے ہیں جن میں چین بھی شامل ہے پاکستان خود بھی خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سینٹرل ایشیا اسٹیٹ ایران، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک ہیں جو اس خطے میں استحکام کے خواہشمند ہیں حتیٰ کہ امریکا تک اس خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے مگر انڈیا اس خطے میں استحکام کے بجائے عدم استحکام پھیلا رہا ہے اور افغان اس کے آلہ کار بن رہے ہیں جس کے آنے والے وقت میں انتہائی منفی اثرات دونوں ممالک انڈیا اور افغانستان پر اندرونی اور بیرونی دونوں سطح پر آئیں گے یہی نہیں افغانستان کے عوام پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہوں گے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خطے میں استحکام لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض اس کے ا
پڑھیں:
افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغان طالبان کی موجودہ رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق رواں سال دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں 1873 دہشتگرد مارے گئے جن میں 136 افغان شہری شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال ملک بھر میں 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں۔ 4 نومبر 2025 سے اب تک کے 4910 آپریشنز میں 206 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاک افغان سرحد مشکل اور طویل ہے، اور اس کی مؤثر نگرانی دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی میں افغان طالبان کی سہولت کاری واضح ہے، اور سرحدی علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں نے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ طالبان نے دوحا معاہدے کے تحت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کی قیادت اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور وہاں سے اسلحہ و فنڈنگ حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 اور 2025 میں 971,604 افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا، صرف نومبر میں 239,574 افراد واپس گئے۔
بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کے بیانات حقیقت کے منافی ہیں اور وہ اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف زہریلا بیانیہ زیادہ تر بیرونِ ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا واحد طریقہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہے، جس کے لیے بلوچستان میں مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔