پاکستان میں معاشی بحران:وجوہات، اثرات اور حل
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
محمد آصف
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے سنگین ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے ۔ مہنگائی، بیروزگاری، کرنسی کی گراوٹ، تجارتی خسارہ، قرضوں کا بوجھ، اور سیاسی عدم استحکام نے ملکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ عام آدمی کی زندگی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے اور بنیادی ضروریات جیسے آٹا، چینی، بجلی، گیس اور پٹرول اب عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ یہ بحران محض وقتی یا عالمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسی کی ناکامی، بدعنوانی، ادارہ جاتی کمزوری اور فیصلہ سازی میں تسلسل کی کمی کا نتیجہ ہے ۔ اس بحران کے اثرات سب سے زیادہ اُس طبقے پر پڑ رہے ہیں جو ملک کا مستقبل کہلاتا ہے ۔ نوجوان نسل پاکستان کی آبادی کا تقریباً چونسٹھ فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ یہ وہ قوت ہے جو اگر درست سمت میں استعمال ہو تو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے ، مگر بدقسمتی سے موجودہ معاشی حالات نے نوجوانوں کی توانائی اور صلاحیتوں کو مایوسی، غیر یقینی اور بے بسی میں بدل دیا ہے ۔ پاکستان کے معاشی بحران کی کئی وجوہات ہیں۔ دہائیوں سے جاری غلط پالیسیوں، کرپشن، غیر منصفانہ نظام، قرضوں پر انحصار اور پیداوار میں کمی نے معیشت کو کمزور کیا ہے ۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے درآمدات کو مہنگا کر دیا ہے ، توانائی کے بحران اور صنعتوں کی بندش نے روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں، اور سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔
اس بحران کی پہلی بڑی وجہ مالیاتی بدانتظامی (Fiscal Mismanagement) ہے ۔ حکومت کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں، اور ٹیکس وصولی کا نظام غیر مؤثر ہے ۔ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح (Tax-to-GDP ratio) دنیا کے کم ترین ممالک میں شامل ہے ، اور صرف ایک محدود طبقہ ہی ٹیکس دیتا ہے ۔ باقی ماندہ خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت بار بار اندرونی اور بیرونی
قرضوں کا سہارا لیتی ہے ۔ اس وقت پاکستان کا بیرونی قرضہ 130 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ، جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہے ، جو درآمدات کو مہنگا اور افراطِ زر کو بڑھاتی ہے ۔ چونکہ پاکستان کی صنعت اور معیشت درآمدی مواد پر انحصار کرتی ہے ، اس لیے روپے کی گراوٹ کا اثر ہر شعبے پر پڑتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی روز بروز بڑھتی ہے اور عام شہری کی قوتِ خرید ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ اشیائے خوردونوش، ادویات، پیٹرولیم مصنوعات، حتیٰ کہ تعلیم اور صحت جیسے شعبے بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ تیسری وجہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ہے ۔ ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ترک کر کے نئی پالیسیاں متعارف کرواتی ہے ، جس سے معیشت میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ سرمایہ کار اعتماد کھو بیٹھتے ہیں، بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور کاروباری طبقہ مستقبل کے خدشات سے پریشان ہو کر اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتا ہے ۔ چوتھی اہم وجہ توانائی کا بحران ہے ۔ لوڈشیڈنگ، گیس کی کمی، اور مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے ، جس سے برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں پیداواری صنعتوں کا عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے ، نتیجتاً تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ اس معاشی بحران کے عوام پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ، لوگ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔ مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے ، اور لوگ نفسیاتی مسائل، جرائم، اور بدامنی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب ملک کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور خودمختاری کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔کیونکہ آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں کی شرائط سخت سے سخت تر ہوتی جا رہی ہیں۔ ان حالات کے نتیجے میں نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے ۔ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ بے روزگاری کی بلند شرح نے ان میں مایوسی، بے چینی اور نفسیاتی دباؤ پیدا کر دیا ہے ۔
بہتر مستقبل کی تلاش میں ہزاروں نوجوان بیرونِ ملک جا رہے ہیں، جس سے ملک علمی اور معاشی طور پر کمزور ہو رہا ہے ۔ دوسری جانب بہت سے نوجوان غیر رسمی شعبوں میں معمولی آمدنی پر کام کرنے پر مجبور ہیں جہاں نہ استحکام ہے نہ سماجی تحفظ۔ تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود نوجوانوں میں بے پناہ قابلیت، جذبہ اور حوصلہ موجود ہے ۔ ڈیجیٹل معیشت، فری لانسنگ، اسٹارٹ اپس اور سوشل انٹرپرینیورشپ کے
ذریعے کئی نوجوان نہ صرف خود کفیل ہو رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں نوجوان زراعت کے جدید طریقے اپنا رہے ہیں جبکہ شہری نوجوان ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔
ریاست اور سماج پر لازم ہے کہ وہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ تعلیم کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے ، کاروباری سہولتیں اور تربیتی پروگرام فراہم کیے جائیں، نوجوانوں کو پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جائے اور کرپشن و اقربا پروری کا خاتمہ کر کے میرٹ کو فروغ دیا جائے ۔ پاکستان کا معاشی بحران وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے ، اور اس سے نکلنے کے لیے
نوجوانوں کو ہی تبدیلی کا محور بنانا ہوگا۔ نوجوان نسل صرف مسائل کا شکار نہیں بلکہ ان مسائل کا حل بھی بن سکتی ہے ، بشرطِیکہ انہیں تعلیم، روزگار اور اعتماد کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہی نوجوان پاکستان کے روشن مستقبل اور معاشی استحکام کی حقیقی ضمانت ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ سب سے پہلے ٹیکس نظام کی اصلاح اور محصولات میں اضافہ کیا جائے ۔
قرضوں پر انحصار کم کر کے برآمدات کو فروغ دیا جائے ۔ زراعت اور صنعت کو سبسڈی دے کر مضبوط کیا جائے تاکہ مقامی پیداوار بڑھے اور درآمدات میں کمی آئے ۔ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے سولر اور ہوا سے بجلی کی پیداوار کو فروغ دیا جائے ۔ سب سے بڑھ کر سیاسی استحکام اور پالیسی کا تسلسل ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور معیشت کو ایک مستقل سمت دی جا سکے ۔
پاکستان کا معاشی بحران صرف اقتصادی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہتی چیلنج ہے جو سیاسی، معاشرتی اور قومی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ اگر فوری اور مستقل نوعیت کے اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو آنے والے سالوں میں مزید سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم بحیثیت قوم معاشی خود انحصاری کی طرف بڑھیں، بدعنوانی کا خاتمہ کریں اور قومی مفاد کو ذاتی سیاست پر ترجیح دیں۔
٭٭٭
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان کا ہو رہے ہیں ہیں بلکہ کیا جائے رہا ہے دیا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور مصر کا سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان اور مصر میں سیاسی، معاشی، دفاع، ثقافتی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 500 بزنس ہاؤسز کی فہرست مصر کو فراہم کرے گا، ان بزنسز کو دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولیات دی جائیں گی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ویزا شکایات کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں نے نئی سہولت کاری کا نظام وضع کیا ہے، پاکستان اور مصر کی دہائیوں پر مشتمل برادرانہ دوستی تاریخی، مذہبی اور باہمی احترام پر قائم ہے۔
عبدالعاطی نے کہا کہ مصر اور پاکستان فلسطین میں دو ریاستی حل، خطے میں سیاسی کشیدگی پر قابو اور امن کے لیے مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال خصوصاً غزہ پر تفصیلی غور کیا گیا، پاکستان نے مصر کے کردار کو سراہا ہے۔ پاکستان نے مصر کی انسانی امداد، ثالثی اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ میرے بھائی نے پاکستانی اسکالرز کی الاالزہر یونیورسٹی میں اسکالرشپ کو ڈبل کردیا ہے۔
اس موقع پر مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار اور تعاون کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، تنازع فلسطین کا دو ریاستی حل ہی قابل عمل اور پائیدار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصر پاکستان کے ساتھ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے، دہشت گردی کے خلاف اپنے کامیاب ماڈل کی پاکستان سے مکمل شیئرنگ کی پیشکش کردی ہے۔
مصری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر بات کی ہے، مصر پاکستان کی مختلف فورمز پر حمایت کی قدر کرتا ہے۔