خطے میں استحکام چاہتے ہیں، حملے ہوئے تو دو ٹوک جواب دیں گے، بلال اظہر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام چاہتے ہیں لیکن حملے ہوئے تو دو ٹوک جواب دیں گے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں بلال اظہر کیانی اور پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے شرکت کی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سلیکشن کا معیار یہ ہے کہ ایسا وزیراعلیٰ لایا جائے جو وفاق سے ٹکرائے۔ پی ٹی آئی والے بات نہیں کرتے، یہ اسمبلی میں آکر کتابیں مارتے ہیں اور بائیکاٹ کرتے ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام چاہتے ہیں لیکن حملے ہوئے تو دو ٹوک جواب دیں گے، ہم خطے میں عوام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلال اظہر کیانی چاہتے ہیں
پڑھیں:
نہیں چاہتے بھائی کو گھر میں گھس کرماریں : اسحاق ڈار
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’میں نے کابل میں واضح کر دیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی ارکان کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوور چک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں، روسی نائب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مختلف روسی وزراء بھی موجود تھے۔ کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی۔ 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات انتہائی خوشگوار اور بے تکلفی والے ماحول میں ہوئی۔ ہم نے کھل کر افغانستان سے پاکستان پر حملوں پر تفصیلی بات چیت کی۔ پہلگام واقعہ اور پاکستان بھارت جنگ کے بعد کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا۔ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی۔ میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں ہی دنیا کے سامنے رکھا۔ افغانستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے چند لوگوں کو گرفتار کیا تاہم ہم نے واضح کیا تھا کہ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی سرزمین پر موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے چند افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ہم افغانستان کا مسئلہ طاقت سے حل کرسکتے ہیں لیکن نہیں چاہتے کہ اپنے بھائی کو گھر میں گھس کر ماریں۔ اگر ہم بھارت کو سبق سکھا سکتے ہیں تو یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ افغان طالبان کو بتادیا تھا کہ اگر وہ دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں کریں گے تو یہ ان کیلئے بھی مصیبت بن جائے گا۔ جب سے افغان طالبان اقتدار میں آئے ہیں دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ افغان طالبان رجیم اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔ افغان طالبان رجیم میں آدھے صلح پسند اور آدھے ان کے اْلٹ ہیں۔ اقوام متحدہ کی درخواست پر افغان عوام کیلئے کھانے پینے کی چیزیں اور انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ آج کر لیں گے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مسلم اْمہ میں اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، اس لیے مسلم اْمہ کو متحد ہو کر تمام عصری چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ گزشتہ روز بین الاقوامی قرات مقابلے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے غزہ، مقبوضہ کشمیر، لبنان، عراق، شام اور ایران و قطر پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اور خصوصاً مسلم دنیا متعدد مسائل اور چیلنجز سے دوچار ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مسلم اْمہ مشترکہ عقائد اور ایمان کی بنیاد پر متحد ہے اور علماء کرام کو چاہیے کہ اْمہ میں اتحاد کی تعلیم دیں کیونکہ یہی مسلم دنیا کے مسائل کا بہترین حل ہے۔ انہوں نے شرکاء سے مخاطب ہو کر کہا کہ متحد رہیں، کیونکہ زمین پر کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اللہ تعالیٰ نے اْمہ کو وسائل سے نوازا ہے۔ اسلامی تعلیمات کسی بھی قسم کے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی اجازت نہیں دیتیں اور ایک انسان کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے، جبکہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ موجودہ حکومت اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔وزیر خارجہ نے مختلف ممالک سے آئے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی تقریب سالانہ بنیادوں پر منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے نوجوان شرکاء کو نصیحت کی کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں اور ہمدردی، محبت، انسانیت، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے اخلاقی اوصاف پیدا کریں تاکہ مسلم اْمہ مضبوط ہو اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔ ادھر اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے قیمتوں کو منصفانہ اور مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم کی زیرصدارت ملک میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی اور قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔ وفاقی وزیر برائے خوراک، وفاقی وزیر برائے تجارت،وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خوراک، سیکرٹری تجارت، چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین ٹی سی پی سمیت صوبائی سیکرٹریز برائے خوراک و زراعت اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔