Express News:
2026-06-02@23:03:20 GMT

جیت ہار سے زیادہ اذیت ناک ہوگی (حصہ اول)

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

پاک افغان جنگ پر پوری امت مسلمہ مضطرب اور افسردہ ہے مگر میرا درد نرالہ، اذیت ناک اور میری برداشت سے باہر ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پاک افغان تنازعہ پر لکھنا اپنے دل میں خنجر پیوست کرکے اسی خون آلود خنجر سے لکھنے کے مترادف ہے۔

امت مسلمہ کا حصہ ہوتے ہوئے ہر محب وطن پاکستانی کی طرح میرے لیے کفار، یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ہاتھوں مسلمانوں کی شہادتیں ناقابل برداشت اور عالم کفر کی سازشوں کے نتیجے میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان خصوصاً پاکستانی افواج کے شیردل جوانوں اور افسروں کی شہادتیں اذیت ناک ہیں، میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں لکھ سکوں کہ کس نے کس کے کتنے مارے کون بھاگا اور کون ڈٹ گیا، کون جیتا اور کون ہارا؟ کیوں کہ میرے نزدیک یہ ایک ایسی المناک لڑائی ہے جس میں جیتنے کا درد ہار کے درد سے زیادہ ہوگا۔

اس کو سمجھانے کے لیے ماضی کے دریچوں میں جھانکنے اور اپنے خوابوں پر بات کرنے کوشش کروں گا تو شاید اپنا درد سمجھا سکوں۔ جہاد افغانستان میں روس کے خلاف بنفس نفیس لڑنے، ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کرنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کی ہجرت اور بحیثیت پاکستانی انصار مدینہ کی سنت ادا کرنے کے وہ مسحور کن لمحات، ہمارے غریب خانہ پر مولوی یونس خالص (بت شکن ثانی) شیخ القرآن والحدیث مولوی محمد نبی محمدیؒ، مجاہد اعظم جلال الدین حقانی،پروفیسر مجددی، برہان الدین ربانی اور جہاد افغانستان کے دوسرے سرخیل قائدین، علماء کرام اکابرین امت کی بار بار آمد اور میرے مرشد و مربی باباجان شیخ المفسرین و المحدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجیؒ کے ساتھ ان کی جرات و عزم سے بھرپور مجالس، مدل گفتگو کرنے والے گل بدین حکمت یار جیسے مجاہد کے ساتھ منصورہ، پشاور اور محمد علی درانی کے گھر ملاقاتیں۔ اسلامیہ کالج پشاور کے دوستوں کے ہمراہ کئی بار جہاد افغانستان میں شرکت اور مجاہدین کے عزم استقلال سے بھاگتے ہوئے روسی فوج کا انخلا ایسی خوشگوار اور ایمان افروز یادیں ہیں جس کا سوچ کر روح مسرور اور دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں۔

کیونکہ یہ جنگ صرف مجاہدین افغانستان نے تقریباً تمام اسلامی ممالک نے امت مسلمہ کی جنگ سمجھ کر ریاست پاکستان کی راہنمائی میں لڑی اور اتحاد امت کی برکت سے جہاد افغانستان نے بدر و حنین کی یاد تازہ کروا دی تھی۔ ڈاگئی باباجیؒ کے ہزاروں شاگرد، روحانی اولاد اور میرے روحانی بھائی تمغہ شہادت اپنے سینوں پر سجا کر اللہ رب العزت کے ہاں سرخرو ہو چکے ہیں۔ جہاد افغانستان کے دوران ریاست پاکستان، پاکستانی قوم نے لاکھوں مہاجرین کو دل و جان سے قبول کرکے ان کی ہر ممکن مدد کے ذریعے عملی طور پر اس مقدس جہاد میں حصہ لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں مجاہدین نے صف اول سے لے کر صف آخر اور انصار پاکستان نے کئی دہائیوں تک وہ کردار ادا کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں لڑی گئی غزوات اور مواخات مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی۔

 میرے باباجانؒ سمیت صف اول کے پاکستانی علماء کرام نے افغانستان پر سویت یونین کی فوج کشی کے پہلے دن سے لے کر اپنی زندگی کی آخری ساعت تک اتحاد امت کی خاطر افغان جہاد میں مجاہدین کی کامیابی کے ثمرات سمیٹنے کے لیے اپنی توانائیاں وقف کر رکھی تھی۔ اس آرزو اور تمنا کے ساتھ کہ افغانستان سے سرخ انقلاب کے علمبردار روس کے نکلنے کے بعد پاکستان اور افغانستان اتحاد امت کے دوسرے مرحلے میں امت مسلمہ کی نشاط ثانیہ کی قیادت و سیادت کے لیے تیار ہوچکے تھے مگر عالم کفر امت مسلمہ کی وحدت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

امریکی استعمار مجاہدین امت مسلمہ کے ہاتھوں روس کی بربادی پر تو خوش تھا مگر روس کی شکست و ریخت کے بعد وہ امت مسلمہ کی وحدت و اتحاد کو روس سے بڑا خطرہ سمجھنے لگا۔ اور روس کے انخلا سے پہلے روس سمیت تمام عالمی طاقتیں بشمول امریکا سمجھ چکے تھے کہ شکست روس اور فتح امت محمدی کے نام ہوچکی ہے۔ اس لیے روسی انخلا سے پہلے امریکی سازشوں کا جال بننا شروع ہو چکا تھا اور امریکی استعمار نے اپنے زرخرید غلاموں اور امت مسلمہ کے غداروں کے ذریعہ اس فتح عظیم کے ثمرات کو ضایع کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی تیاری کی تھی جس کی تباہ کاریاں جنرل محمد ضیاء الحق کے طیارے کو نشانہ بنانے سے شروع ہوئی تو روسی انخلا کے فوراً بعد جہاد افغانستان میں کردار ادا کرنے والی تمام پارٹیوں کے سربراہان کا ایک اجلاس پشاور گورنر ہاؤس میں بلایا گیا جس میں اقتدار کی بندر بانٹ کا ایسامجرمانہ معاہدہ کروایا گیا کہ پوری امت مسلمہ پر سکتہ طاری ہوگیا۔

کیونکہ اس معاہدے کی وجہ سے فتح کے ثمرات سمیٹنے اور ترقی کا سفر شروع کرنے کی بجائے افغانستان میں خطرناک خانہ جنگی شروع ہوگئی، جہاد افغانستان کے اصل ہیروز اور مجاہدین بدظن ہو کر کنارہ کش ہوگئے۔ پھر ملا محمدعمر مجاہدؒ خانہ جنگی ختم کرنے اور امن کے قیام کے لیے ہاتھوں میں قرآن پاک اور کلمہ طیبہ سے مزیئن سفید پرچم لیے 50 کے لگ بھگ مدارس کے طلبا کا امن جرگہ لے کر چل نکلے تو خانہ جنگی سے تنگ افغان عوام ساتھ ملتے گئے ،چند دنوں میں امن جرگہ ہزاروں اور پھر لاکھوں کے امن لشکر میں تبدیل ہوگیا۔

ملا محمد عمر کی قیادت میں طالبان کا امن لشکر جب قندھار پہنچا تو مجاہدین کے محسنوں اور افغان عوام کے اصرار پر امارات اسلامیہ کے قیام کا اعلان کیا گیا اور چند مہینے میں 95% افغانستان پر کلمہ طیبہ سے مزیئن پرچم لہرانے لگا تو پوری عالم اسلام میں جشن کا سماں مگر عالم کفر سکتے میں تھا۔ افغانستان کے محسن ریاست پاکستان کو اپنی قربانیوں کے طفیل تاریخ میں پہلی بار افغانستان کی سرزمین پر پاکستان دوست ریاست مل گئی تو شکرانے کے نوافل ادا کیے گئے۔ میں خود چھٹی لے کر اپنے مرشد و مربی باباجانؒ کو مبارک باد دینے کے لیے کراچی سے ڈاگئی پہنچا تو باباجانؒ کو جتنا خوش اور مسرور پایا اس کا احاطہ الفاظ میں ممکن نہیں۔ امارات اسلامیہ افغانستان کی طرف سے میرے باباجانؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، ڈاکٹر شیر علی شاہؒ اور مفتی شامزئیؒ کو افغانستان کی اعزازی شہریت اور پاسپورٹ دیے گئے۔

باباجانؒ اور ڈاکٹر شیر علی شاہؒ نے امارات اسلامیہ کے ذمے داران اور اکابرین کے وفد کے ہمراہ حج کے موقع پر سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے مسلمان ممالک کے ذمے داران کو امارات اسلامیہ افغانستان کے بارے تفصیلات اور ملا عمر مجاہدؒ کے پیغامات پہنچائے۔ حج سے واپسی کے بعد امارات اسلامیہ افغانستان کے امیر المومنین مولانا محمد عمر مجاہدؒ کی تجویز پر شوریٰ نے باباجانؒ کے پاس ایک وفد اور جرگہ اس مقصد سے بھیجا کہ جامعہ فاروقیہ کابل کے ہزاروں طلباء کو تفسیر قرآن اور تفسیر بخاری پڑھانے کی ذمے داری قبول کرلیںاس وفد میں امارات اسلامیہ افغانستان کے وزیر تعلیم و مذہبی امور اور موجودہ وزیر خارجہ ملا امیر متقی صاحب سمیت کئی ذمے داران، سفارت کار، پاکستان اور افغانستان کے علماء کرام موجود تھے۔ باباجانؒ نے اپنی طرف سے وفد میں موجود شیخ القرآن والحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحبؒ کا نام پیش کیا مگر ڈاکٹر صاحب سمیت وفد کے ارکان کے اصرار پر باباجان ؒ نے ذمے داری قبول کی تو ڈیڑھ سال تک ریڈیو شریعت سے باباجانؒ کا تفسیر قرآن اور تفسیر بخاری براہ راست نشر ہوتا رہا۔ ڈیوٹی پر مامور افغان مجاہدین اور امارت اسلامیہ کے ذمے داران اور اہلکار مخابرے (وائیر لیس) کی مخصوص فریکوئنسی پر سنتے تھے۔

کابل میں قیام کے دوران مولانا امیر متقی ان کے میزبان تھے۔ دونوں کے روحانی تعلق کی گہرائی اور نوعیت سمجھنے کے لیے ایک واقعہ کافی ہے۔ اسی دوران ملا امیر متقی صاحب کے ہاں بیٹے پیدا ہوا اس دن ڈاگئی باباجیؒ ان کے گھر گئے تو مولانا امیر متقی صاحب کی والدہ محترمہ نے پردے کے پیچھے سے والد محترم کو خوشخبری ان الفاظ میں سنائی "اللہ رب العزت نے متقی کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے آپ اذان بھی دے دیں اور میں نے ان کا ایک نام بڑی عقیدت سے پسند کیا ہے آپ وہ نام بھی ان کو دے دیں ، باباجانؒ نے پوچھا کونسا نام پسند کیا ہے؟ تو متقی صاحب کی والدہ نے جواب دیا کہ آپ کا نام مبارک "حمداللہ جان" مجھے پسند ہے۔

اذان کے بعد والد صاحب نے ان کا نام حمداللہ جان متقی رکھ کر سب کو مبارک باد دی۔ اب ذرا میری اس اذیت کا اندازہ لگائیں جب میرے مرشد و مربی باباجانؒ سے عقیدت رکھنے والا میرا روحانی بھائی مولانا امیر متقی میرے ملک پاکستان کے ازلی دشمن ملک میں بیٹھ کر اپنے محسن و مربی ڈاگئی باباجیؒ کے ملک بلکہ امارات اسلامیہ کے محسن ملک پاکستان کے خلاف پریس کانفرنس کرے گا تو میرے اور میرے جیسے ہزاروں پاکستانیوں کا دل خون کے آنسو نہیں روئے گا؟

میری ناقص رائے کے مطابق اگر ہوش کے ناخن نہیں لیے گئے تو موجودہ عالمی اور امت مسلمہ کے حالات کے تناظر میں اس جنگ میں جیت ہار سے زیادہ اذیت ناک ہوگی۔        (جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امارات اسلامیہ افغانستان جہاد افغانستان افغانستان میں افغانستان کے ڈاگئی باباجی امت مسلمہ کی اسلامیہ کے اذیت ناک کے بعد کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی