حماس کے سینیئر رہنما اسامہ حمدان نے مصر اور دیگر ثالث فریقوں کے ساتھ طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی شقوں کی مفصل تصویر پیش کردی ہے۔

العربی ٹی وی کو دیے گئے اپنے تازہ انٹرویو میں حمدان نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد غزہ پر جاری جارحیت کا مکمل خاتمہ ہے اور اسی کے بعد قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آئے گا، جبکہ معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

حمدان نے واضح طور پر کہا کہ معاہدے کے ایک اہم حصے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ شہر، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے انخلا کرنا ہوگا اور یہ اقدام جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے ساتھ مربوط ہوگا۔ اُن کے بقول اس پہلو کو ثالثوں نے بھی تسلیم کیا ہے اور معاہدے کی پہلی اور بنیادی شق ہی غزہ پر جارحیت کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔

معاہدے کی لاجسٹک شقوں کے متعلق اسامہ حمدان نے بتایا کہ پانچ سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے روزانہ کم از کم 600 ٹرک امدادی سامان غزہ میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ امدادی سامان کی تقسیم مقامی یا مشکوک اداروں کے ذریعے نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کے ماتحت شفاف طریقے سے ہونی چاہیے تاکہ تقسیم کے عمل میں رکاوٹ یا بدعنوانی نہ آئے۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی منتقلی کے دوران غزہ کی فضاؤں میں ڈرون پروازیں روکنے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ نقل و حمل کا عمل بلاخوف و خطر انجام پائے۔

قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے اسامہ حمدان نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت تقریباً 250 ایسے قیدی بھی رہا کیے جائیں گے جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اور ساتھ ہی غزہ سے تقریباً 1,700 دیگر قیدیوں کی رہائی بھی فہرست میں شامل ہے۔ تاہم انہوں نے یہ باور کروایا کہ قیدیوں کا یہ تبادلہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا، یعنی قیدیوں کی رہائی جنگ بندی کے نفاذ کے عین بعد کا عمل ہے۔

حمدان نے معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ثالث فریقوں کے کردار پر بھی بات کی اور کہا کہ ثالثوں نے معاہدے کی پاسداری کروانے کی ذمے داری قبول کی ہے اور جنگ بندی کے باقاعدہ اعلان کا اختیار بھی امریکی فریق کو سونپا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے رویے پر بین الاقوامی برادری کی کڑی نظر ضروری ہے تاکہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر اسے بے نقاب کیا اور اقدامات کیے جاسکیں۔

غزہ کے انتظامِی امور کے بارے میں اسامہ حمدان نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں نے غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے چالیس ناموں پر مشتمل ایک مجوزہ فہرست پیش کی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ غزہ کا انتظام مکمل طور پر فلسطینی قومی نمائندوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، کسی بیرونی یا قابض مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی فریق عوامی مدد کرنا چاہے وہ کرے، مگر اسے سرپرستی یا سیاسی قابضیت کے منافع بخش منظرناموں سے دور رہنا ہوگا۔

آخر میں اسامہ حمدان نے کہا کہ اگرچہ وہ قابض افواج پر اعتماد نہیں کرتے، مگر ثالثین کی ضمانتوں کو ضروری قرار دیتے ہیں تاکہ معاہدے کے نفاذ کے مراحل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ فلسطینی عوام کی سب سے بنیادی مانگ ’غزہ پر جارحیت کا خاتمہِ‘ کو پورا کرتا ہے اور اب عالمی کمیونٹی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس عمل کو عملی شکل دینے میں شفاف اور مؤثر کردار ادا کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ معاہدے معاہدے کی معاہدے کے نے کہا کہ انہوں نے ہے اور

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود