سعودی عرب، جے سی ایل ٹی 12 کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل معرکے کل ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
الجبیل:
سعودی عرب کے صنعتی شہر الجبیل میں جاری جے سی ایل ٹی 12 کرکٹ ٹورنامنٹ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
کل جمعے کے دن ایونٹ کے دو فائنل میچز کھیلے جائیں گے، جن میں شرکت کرنے والی ٹیموں کے کھلاڑی جیت کے جذبے سے سرشار اور بھرپور پریکٹس میں مصروف ہیں۔
جے سی ایل ٹی 12 کرکٹ ٹورنامنٹ میں پریمیئر ڈویژن کا فائنل نقی الیون اور اے ایل سی سی الیون کے درمیان ہو گا جبکہ پرائم ڈویژن کا فائنل شاہین الیون اور ایگل سی سی الیون کے درمیان کھیلا جائے گا۔
ٹورنامنٹ میں پریمیئر ڈویژن کی 14 اور پرائم ڈویژن کی 16 ٹیموں نے حصہ لیا، جس سے واضح ہے کہ الجبیل میں کرکٹ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔
کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ گلوبل اسپورٹس کمیونٹی کے تعاون سے نہ صرف نیٹ پریکٹس کی سہولیات میسر ہیں بلکہ فٹنس اور مہارت کو بہتر بنانے کے لیے بھی بھرپور ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
ٹورنامنٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شریک ہے جو نہ صرف اپنی ٹیموں کی قیادت کر رہے ہیں بلکہ شاندار کارکردگی کے ذریعے اپنی کمیونٹی کا نام بھی روشن کر رہے ہیں۔
شائقین کا کہنا ہے کہ ایسے ٹورنامنٹس نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو جوڑتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب بھی کرتے ہیں۔
ٹورنامنٹ کے فائنلز میں مقامی و بین الاقوامی کمیونٹی کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ صرف ایک کرکٹ ایونٹ نہیں بلکہ کمیونٹی کو جوڑنے والا تہوار بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیں بلکہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔