Islam Times:
2026-07-24@08:53:10 GMT

پاکستان افغانستان جنگ کا ایک اور زاویہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

پاکستان افغانستان جنگ کا ایک اور زاویہ

اسلام ٹائمز: دونوں ممالک کے درمیان معاملے کو ایک اور زاوئیے کیساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کیطرف سے افغانستان میں بگرام اڈہ واپس لینے کی بات کے بعد پاکستان نے اب ایک امریکی پراکسی کے طور پر طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امریکہ اور اسلام آباد کیطرف سے مطلوبہ سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی مراعات فراہم کرے۔ شام میں بشار الاسد کے زوال کیساتھ اسکی جنوبی سرحدوں پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی تھی کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مطابق پاکستان کو اپنی شمالی سرحدوں پر بھی ایسی ہی رعایتیں دی جائیں گی۔ اسکے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان یہ کشمکش اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگی اور مستقبل میں ایران کے مشرقی ہمسایہ ممالک کے درمیان پس پردہ معاہدوں کی صورت میں یا کھلے عام اعلانات کے باوجود سیاسی و فوجی کھینچا تانی جاری رہے گی۔ تحریر: محمد رضا ستاری

طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے المیے کے بعد شاید موجودہ زمانے کی ایک بڑی تلخ ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان سے ٹکراؤ شروع کر دیا اور اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے براہ راست جنگ میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ مسئلہ اس لیے اہم ہے، کیونکہ پاکستان کو طالبان کا گاڈ فادر سمجھا جاتا ہے اور  طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے تک اس گروپ کی حمایت کرنے والی اہم ریاست پاکستان تھی۔ جیسا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے بااثر سربراہ جنرل حمید گل نے ایک بار صاف صاف کہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو جلال الدین حقانی اور ہیبت اللہ کے ساتھ میدان جنگ میں بھیجا ہے، تاکہ کفار کے خلاف جہاد کرسکے۔

کشیدگی میں اضافے اور پاکستان و طالبان کے درمیان براہ راست تصادم کی وجوہات کا تجزیہ کرنے کے لیے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک کی طرح پاکستان اور افغانستان بھی سرحدی تنازعات میں گھرے رہے ہیں اور جنوبی سرحدوں اور ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ نتیجتاً یہ عنصر کسی بھی لمحے دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کی راکھ کے نیچے چھپی انگاری کو آگ میں بدل سکتا ہے اور اس سے قطع نظر کہ افغانستان میں کس قسم کی حکومت برسراقتدار ہے، یہ تنازعہ ایک مستقل تنازعہ ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ حقانی نیٹ ورک، ایک بااثر گروپ کے طور پر جو کہ آج افغانستان کے سکیورٹی تعلقات کو کنٹرول کرتا ہے، کے اسلام آباد سے قریبی تعلقات ہیں، لیکن جب طالبان دوسری بار اقتدار میں آئے تو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اسلام آباد کے لیے ایک عدم استحکام کا باعث بن گئی۔ ٹی ٹی پی نے گذشتہ تین برسوں میں سینکڑوں آپریشنز اور حملوں میں لاتعداد پاکستانی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کیا ہے۔ لہٰذا، تحریک طالبان پاکستان اب کابل کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک کارڈ بن گئی ہے۔ دوسری جانب حالیہ دنوں میں پاکستان اور طالبان کے درمیان براہ راست تصادم ہوا، جس کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بھرپور جنگ کے امکانات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اس وقت ہوا ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کی کمزوریوں سے آگاہ ہیں۔

مثال کے طور پر طالبان جانتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے  وہ پاکستان کا براہ راست مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لیکن وہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور گوریلا جنگ میں اسلام آباد کے لیے کافی پریشانیاں پیدا کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان کو طالبان پر فوجی برتری حاصل ہے، حالانکہ اس ملک نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ جنگ ​​ختم کی ہے اور اس کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال کے پیش نظر وہ طالبان ملیشیا اور ان کے اتحادی گروپوں کے ساتھ مسلسل تنازعات کو اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ مستقبل کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے دو باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، طالبان، اپنی وجودی نوعیت کی وجہ سے، ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے رہے ہیں اور بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق، انھیں ایران کی قومی سلامتی کے لیے بھی ترجیحی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح گذشتہ تین برسوں کے دوران متعدد سرحدی اور سکیورٹی چیلنجز اور ہلمند میں پانی کے حقوق سے متعلق مسائل ان مسائل میں شامل ہیں، جنہوں نے افغانستان پر حکمرانی کرنے والے اس شدت پسند گروپ کے ساتھ ایران کو انگیج کر رکھا ہے۔ اس لیے اسلام آباد کا طالبان کے ساتھ محاذ آرائی اور طالبان کا کمزور ہونا  نہ صرف افغانستان کے عوام بلکہ ایران کے لیے بھی ایک اہم اور تزویراتی فائدہ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان معاملے کو ایک اور زاوئیے کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان میں بگرام اڈہ واپس لینے کی بات کے بعد پاکستان نے اب ایک امریکی پراکسی کے طور پر طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امریکہ اور اسلام آباد کی طرف سے مطلوبہ سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی مراعات فراہم کرے۔

شام میں بشار الاسد کے زوال کے ساتھ اس کی جنوبی سرحدوں پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی تھی کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مطابق پاکستان کو اپنی شمالی سرحدوں پر بھی ایسی ہی رعایتیں دی جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان یہ کشمکش اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگی اور مستقبل میں ایران کے مشرقی ہمسایہ ممالک کے درمیان پس پردہ معاہدوں کی صورت میں یا کھلے عام اعلانات کے باوجود سیاسی و فوجی کھینچا تانی جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طالبان کے درمیان ممالک کے درمیان پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کو اور طالبان اسلام آباد جا سکتا ہے براہ راست کے طور پر رہے ہیں کے ساتھ ہے اور اور اس کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان