Islam Times:
2026-07-24@10:13:36 GMT

پاکستان افغانستان جنگ کا ایک اور زاویہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

پاکستان افغانستان جنگ کا ایک اور زاویہ

اسلام ٹائمز: دونوں ممالک کے درمیان معاملے کو ایک اور زاوئیے کیساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کیطرف سے افغانستان میں بگرام اڈہ واپس لینے کی بات کے بعد پاکستان نے اب ایک امریکی پراکسی کے طور پر طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امریکہ اور اسلام آباد کیطرف سے مطلوبہ سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی مراعات فراہم کرے۔ شام میں بشار الاسد کے زوال کیساتھ اسکی جنوبی سرحدوں پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی تھی کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مطابق پاکستان کو اپنی شمالی سرحدوں پر بھی ایسی ہی رعایتیں دی جائیں گی۔ اسکے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان یہ کشمکش اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگی اور مستقبل میں ایران کے مشرقی ہمسایہ ممالک کے درمیان پس پردہ معاہدوں کی صورت میں یا کھلے عام اعلانات کے باوجود سیاسی و فوجی کھینچا تانی جاری رہے گی۔ تحریر: محمد رضا ستاری

طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے المیے کے بعد شاید موجودہ زمانے کی ایک بڑی تلخ ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان سے ٹکراؤ شروع کر دیا اور اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے براہ راست جنگ میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ مسئلہ اس لیے اہم ہے، کیونکہ پاکستان کو طالبان کا گاڈ فادر سمجھا جاتا ہے اور  طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے تک اس گروپ کی حمایت کرنے والی اہم ریاست پاکستان تھی۔ جیسا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے بااثر سربراہ جنرل حمید گل نے ایک بار صاف صاف کہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو جلال الدین حقانی اور ہیبت اللہ کے ساتھ میدان جنگ میں بھیجا ہے، تاکہ کفار کے خلاف جہاد کرسکے۔

کشیدگی میں اضافے اور پاکستان و طالبان کے درمیان براہ راست تصادم کی وجوہات کا تجزیہ کرنے کے لیے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک کی طرح پاکستان اور افغانستان بھی سرحدی تنازعات میں گھرے رہے ہیں اور جنوبی سرحدوں اور ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ نتیجتاً یہ عنصر کسی بھی لمحے دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کی راکھ کے نیچے چھپی انگاری کو آگ میں بدل سکتا ہے اور اس سے قطع نظر کہ افغانستان میں کس قسم کی حکومت برسراقتدار ہے، یہ تنازعہ ایک مستقل تنازعہ ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ حقانی نیٹ ورک، ایک بااثر گروپ کے طور پر جو کہ آج افغانستان کے سکیورٹی تعلقات کو کنٹرول کرتا ہے، کے اسلام آباد سے قریبی تعلقات ہیں، لیکن جب طالبان دوسری بار اقتدار میں آئے تو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اسلام آباد کے لیے ایک عدم استحکام کا باعث بن گئی۔ ٹی ٹی پی نے گذشتہ تین برسوں میں سینکڑوں آپریشنز اور حملوں میں لاتعداد پاکستانی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کیا ہے۔ لہٰذا، تحریک طالبان پاکستان اب کابل کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک کارڈ بن گئی ہے۔ دوسری جانب حالیہ دنوں میں پاکستان اور طالبان کے درمیان براہ راست تصادم ہوا، جس کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بھرپور جنگ کے امکانات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اس وقت ہوا ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کی کمزوریوں سے آگاہ ہیں۔

مثال کے طور پر طالبان جانتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے  وہ پاکستان کا براہ راست مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لیکن وہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور گوریلا جنگ میں اسلام آباد کے لیے کافی پریشانیاں پیدا کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان کو طالبان پر فوجی برتری حاصل ہے، حالانکہ اس ملک نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ جنگ ​​ختم کی ہے اور اس کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال کے پیش نظر وہ طالبان ملیشیا اور ان کے اتحادی گروپوں کے ساتھ مسلسل تنازعات کو اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ مستقبل کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے دو باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، طالبان، اپنی وجودی نوعیت کی وجہ سے، ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے رہے ہیں اور بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق، انھیں ایران کی قومی سلامتی کے لیے بھی ترجیحی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح گذشتہ تین برسوں کے دوران متعدد سرحدی اور سکیورٹی چیلنجز اور ہلمند میں پانی کے حقوق سے متعلق مسائل ان مسائل میں شامل ہیں، جنہوں نے افغانستان پر حکمرانی کرنے والے اس شدت پسند گروپ کے ساتھ ایران کو انگیج کر رکھا ہے۔ اس لیے اسلام آباد کا طالبان کے ساتھ محاذ آرائی اور طالبان کا کمزور ہونا  نہ صرف افغانستان کے عوام بلکہ ایران کے لیے بھی ایک اہم اور تزویراتی فائدہ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان معاملے کو ایک اور زاوئیے کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان میں بگرام اڈہ واپس لینے کی بات کے بعد پاکستان نے اب ایک امریکی پراکسی کے طور پر طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امریکہ اور اسلام آباد کی طرف سے مطلوبہ سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی مراعات فراہم کرے۔

شام میں بشار الاسد کے زوال کے ساتھ اس کی جنوبی سرحدوں پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی تھی کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مطابق پاکستان کو اپنی شمالی سرحدوں پر بھی ایسی ہی رعایتیں دی جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان یہ کشمکش اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگی اور مستقبل میں ایران کے مشرقی ہمسایہ ممالک کے درمیان پس پردہ معاہدوں کی صورت میں یا کھلے عام اعلانات کے باوجود سیاسی و فوجی کھینچا تانی جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طالبان کے درمیان ممالک کے درمیان پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کو اور طالبان اسلام آباد جا سکتا ہے براہ راست کے طور پر رہے ہیں کے ساتھ ہے اور اور اس کے لیے

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان