Islam Times:
2026-06-03@06:48:04 GMT

پاکستان افغانستان جنگ کا ایک اور زاویہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

پاکستان افغانستان جنگ کا ایک اور زاویہ

اسلام ٹائمز: دونوں ممالک کے درمیان معاملے کو ایک اور زاوئیے کیساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کیطرف سے افغانستان میں بگرام اڈہ واپس لینے کی بات کے بعد پاکستان نے اب ایک امریکی پراکسی کے طور پر طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امریکہ اور اسلام آباد کیطرف سے مطلوبہ سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی مراعات فراہم کرے۔ شام میں بشار الاسد کے زوال کیساتھ اسکی جنوبی سرحدوں پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی تھی کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مطابق پاکستان کو اپنی شمالی سرحدوں پر بھی ایسی ہی رعایتیں دی جائیں گی۔ اسکے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان یہ کشمکش اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگی اور مستقبل میں ایران کے مشرقی ہمسایہ ممالک کے درمیان پس پردہ معاہدوں کی صورت میں یا کھلے عام اعلانات کے باوجود سیاسی و فوجی کھینچا تانی جاری رہے گی۔ تحریر: محمد رضا ستاری

طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے المیے کے بعد شاید موجودہ زمانے کی ایک بڑی تلخ ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان سے ٹکراؤ شروع کر دیا اور اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے براہ راست جنگ میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ مسئلہ اس لیے اہم ہے، کیونکہ پاکستان کو طالبان کا گاڈ فادر سمجھا جاتا ہے اور  طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے تک اس گروپ کی حمایت کرنے والی اہم ریاست پاکستان تھی۔ جیسا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے بااثر سربراہ جنرل حمید گل نے ایک بار صاف صاف کہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو جلال الدین حقانی اور ہیبت اللہ کے ساتھ میدان جنگ میں بھیجا ہے، تاکہ کفار کے خلاف جہاد کرسکے۔

کشیدگی میں اضافے اور پاکستان و طالبان کے درمیان براہ راست تصادم کی وجوہات کا تجزیہ کرنے کے لیے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک کی طرح پاکستان اور افغانستان بھی سرحدی تنازعات میں گھرے رہے ہیں اور جنوبی سرحدوں اور ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ نتیجتاً یہ عنصر کسی بھی لمحے دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کی راکھ کے نیچے چھپی انگاری کو آگ میں بدل سکتا ہے اور اس سے قطع نظر کہ افغانستان میں کس قسم کی حکومت برسراقتدار ہے، یہ تنازعہ ایک مستقل تنازعہ ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ حقانی نیٹ ورک، ایک بااثر گروپ کے طور پر جو کہ آج افغانستان کے سکیورٹی تعلقات کو کنٹرول کرتا ہے، کے اسلام آباد سے قریبی تعلقات ہیں، لیکن جب طالبان دوسری بار اقتدار میں آئے تو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اسلام آباد کے لیے ایک عدم استحکام کا باعث بن گئی۔ ٹی ٹی پی نے گذشتہ تین برسوں میں سینکڑوں آپریشنز اور حملوں میں لاتعداد پاکستانی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کیا ہے۔ لہٰذا، تحریک طالبان پاکستان اب کابل کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک کارڈ بن گئی ہے۔ دوسری جانب حالیہ دنوں میں پاکستان اور طالبان کے درمیان براہ راست تصادم ہوا، جس کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بھرپور جنگ کے امکانات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اس وقت ہوا ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کی کمزوریوں سے آگاہ ہیں۔

مثال کے طور پر طالبان جانتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے  وہ پاکستان کا براہ راست مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لیکن وہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور گوریلا جنگ میں اسلام آباد کے لیے کافی پریشانیاں پیدا کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان کو طالبان پر فوجی برتری حاصل ہے، حالانکہ اس ملک نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ جنگ ​​ختم کی ہے اور اس کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال کے پیش نظر وہ طالبان ملیشیا اور ان کے اتحادی گروپوں کے ساتھ مسلسل تنازعات کو اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ مستقبل کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے دو باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، طالبان، اپنی وجودی نوعیت کی وجہ سے، ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے رہے ہیں اور بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق، انھیں ایران کی قومی سلامتی کے لیے بھی ترجیحی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح گذشتہ تین برسوں کے دوران متعدد سرحدی اور سکیورٹی چیلنجز اور ہلمند میں پانی کے حقوق سے متعلق مسائل ان مسائل میں شامل ہیں، جنہوں نے افغانستان پر حکمرانی کرنے والے اس شدت پسند گروپ کے ساتھ ایران کو انگیج کر رکھا ہے۔ اس لیے اسلام آباد کا طالبان کے ساتھ محاذ آرائی اور طالبان کا کمزور ہونا  نہ صرف افغانستان کے عوام بلکہ ایران کے لیے بھی ایک اہم اور تزویراتی فائدہ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان معاملے کو ایک اور زاوئیے کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان میں بگرام اڈہ واپس لینے کی بات کے بعد پاکستان نے اب ایک امریکی پراکسی کے طور پر طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امریکہ اور اسلام آباد کی طرف سے مطلوبہ سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی مراعات فراہم کرے۔

شام میں بشار الاسد کے زوال کے ساتھ اس کی جنوبی سرحدوں پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی تھی کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مطابق پاکستان کو اپنی شمالی سرحدوں پر بھی ایسی ہی رعایتیں دی جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان یہ کشمکش اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگی اور مستقبل میں ایران کے مشرقی ہمسایہ ممالک کے درمیان پس پردہ معاہدوں کی صورت میں یا کھلے عام اعلانات کے باوجود سیاسی و فوجی کھینچا تانی جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طالبان کے درمیان ممالک کے درمیان پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کو اور طالبان اسلام آباد جا سکتا ہے براہ راست کے طور پر رہے ہیں کے ساتھ ہے اور اور اس کے لیے

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی