—فائل فوٹو

چیئرمین کمیٹی مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی اجلاس میں ایم 6 موٹروے منصوبے کی تازہ پیشرفت رپورٹ زیر بحث آئی۔

اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے این ایچ اے حکام نے کہا کہ  ایم 6 موٹروے منصوبے کو 5 سیکشنز میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامی ترقیاتی بینک نے سیکشن 4 اور 5 کے لیے 475 ملین ڈالر کی منظوری دے دی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اسلامی ترقیاتی بینک کا بورڈ اجلاس 29 ستمبر 2025 کو ہوا تھا، منصوبے کے لیے جنرل پروکیورمنٹ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، اوپیک فنڈ اور سعودی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ کے ساتھ مشترکہ فنانسنگ پر مذاکرات جاری ہیں۔

این ایچ اے حکام نے کہا کہ سیکشن 3 کی فنانسنگ کی منظوری دسمبر 2025 میں متوقع ہے، ایم 6 کی تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز ٹھیکوں کے بعد کیا جائے گا،  ایم 6 موٹروے کے ہر سیکشن کی تکمیل کا دورانیہ 30 ماہ مقرر کیا گیا ہے۔

حکام نے کہا کہ ایم 6موٹروے کی تعمیر 2028 تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، ایم 6 موٹروے 306 کلومیٹر طویل، 15انٹرچینجز اور 10سروس ایریاز ہوں گے۔

چیئرمین کمیٹی مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ اس قرض پر سود 6 فیصد سے بھی اوپر جارہا ہے۔ جس پر رکن کمیٹی جاوید حنیف خان نے کہا کہ قرض پر اتنے زیادہ سود پر ہمارے شدید تحفظات ہیں۔ 

ای اے ڈی حکام نے کہا کہ یہ قرض اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کے شرائط کے تحت ہی لیا گیا ہے، ہم نے فنانس ڈویژن کے ساتھ اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کی شرائط شیئر کی تھیں، اس قرض کی واپسی کی مدت 20 سال ہے، 5 سال کا گریس پریڈ ہے۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: حکام نے کہا کہ ایم 6 موٹروے گیا ہے

پڑھیں:

کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کیخلاف درخواست میں اہم پیشرفت

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا سے متعلق موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم اور ای چالان کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا سے متعلق موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم اور ای چالان کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ شہر میں سڑکوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، شہر میں ٹریفک سگنلز بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہیں لیکن اب تک 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔

درخواست گزار نے موقف دیا کہ سندھ حکومت کے مطابق ای چالان کے جرمانے کا نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع نہیں ہوا ہے۔ گزٹ میں شائع نا ہونے کے باعث 2023 کے منظور شدہ جرمانے ہی نافذ ہوں گے۔ ای چالان کے ذریعے کیے جانے والے بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے درخواست کو اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • لڑکی کے بال کاٹنے کے واقعے میں اہم پیشرفت، مرکزی ملزم گرفتار
  • 27ویں آئینی ترمیم: قومی اسمبلی اجلاس پر فافن کی رپورٹ
  • ڈکی بھائی اور عروب جتوئی عدالت میں پیش، کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی
  • لاہور: وزیرخزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع کابینہ کمیٹی کے 28ویں اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
  • پوٹن امن منصوبے پر بات کو تیار لیکن یوکرین کے لیے وارننگ
  • کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کیخلاف درخواست میں اہم پیشرفت
  • ورلڈ بینک: طالبان نے بجٹ کا نصف حصہ سیکیورٹی پر خرچ کر دیا
  • ورلڈ بینک کا بڑا انکشاف: طالبان نے آدھا بجٹ سیکیورٹی کے نام پر اڑا دیا
  • یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے نہیں دے رہا‘ حکام وزارت داخلہ کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
  • وفاقی بیورکریسی کے تبادلے ؛ سلطان احمد چوہدری آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس تعینات