سندھ بلڈنگ، صدر ٹاؤن میں بلند عمارتوں کا غیرقانونی کاروبار!
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
صدر ولنگٹن اسٹریٹ پر ٹھیکے داروں کا بے لاگ ڈیرہ، شہریوں کی سانسیں تنگ
بے ہنگم تعمیرات نے شہر کے نقشے کو مسخ کر دیا،متعلقہ حکام کی چشم پوشی برقرار
شہر کے پرانے اور خوبصورت علاقے صدر ٹاؤن میں انسانی بستیوں کو جنگل میں تبدیل کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ،جہاں بلڈنگ ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ سب انتظامیہ کے ڈائریکٹر ساؤتھ راشد ناریجو اور ڈائریکٹر ڈیمالیشن کی ملی بھگت سے ممکن ہو رہا ہے ،حکام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ماہانہ خطیر رقوم کی بندر بانٹ کے بعد ہر قسم کی تعمیر کی چھوٹ دی جارہی ہے ۔جرأت سروے کے دوران حاصل کی جانے والی زیر نظر تصاویر صدر کی مشہور ولنگٹن اسٹریٹ پر دندناتی عمارتیں انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا رہی ہیں ۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ بے ہنگم تعمیرات نہ صرف شہر کے قدرتی حسن کے لیے زہر قاتل ہیں، بلکہ ان سے بنیادی سہولیات جیسے پانی، گیس اور بجلی کی سپلائی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ گلیاں تنگ ہونے سے ٹریفک کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور آگ لگنے کی صورت میں بچاؤ کارروائیوں کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ایک سینئر محکمہ ٹاؤن پلاننگ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ’’ضابطے تو موجود ہیں،مگر ان پر عملدرآمد کروانے والا کوئی نہیں۔طاقتور مافیا نے پیسے کے بل بوتے پر پورا نظام ہائی جیک کر رکھا ہے ۔شہری حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ صدر ٹاؤن میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں، ورنہ یہ خوبصورت علاقہ ایک تاریک اور گھٹن زدہ سرنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔