روز ویلٹ ہوٹل کے قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر، اسٹیٹ بینک کے تحفظات
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)نے نیشنل بینک آف پاکستان(NBP) سے لیے گئے قرض کی بروقت ادائیگی میں تاخیر پر شدید تحفظات کااظہارکیاہے، یہ معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں زیرِ بحث آیا،جس میں روزویلٹ ہوٹل نیویارک کو درپیش مالی مسائل کاجائزہ لیاگیا۔
اجلاس میں بتایاگیا کہ ہوٹل کی آمدن بندہونے کے بعد واجب الادا واجبات کی ادائیگی کیلیے 17.
مشیرِ وزیراعظم برائے نجکاری نے مشورہ دیاکہ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو ان واجبات کی ادائیگی مرحلہ وارکی جاسکتی ہے، تاہم ای سی سی نے یہ نوٹ کیاکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن انویسٹمنٹ لمیٹڈ نیشنل بینک کے غیر ملکی قرض کو مقامی کرنسی میں تبدیل کرنے میں کوئی پیشرفت نہ کرسکی۔
وزارتِ خزانہ نے بتایاکہ انہیں جو مالیاتی بیانات فراہم کیے گئے وہ روزویلٹ ہوٹل اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈسے متعلق ہیں،جبکہ پی آئی اے آئی ایل کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دفاعی وزارت کی جانب سے پیش کردہ مطالبات میں بھی وضاحت درکار ہے۔ ای سی سی نے وزارتِ متعلقہ کو ہدایت دی کہ ایک ہفتے کے اندر مالیاتی تجاویز پر نظرثانی کرتے ہوئے نیشنل بینک، اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ اور نجکاری کمیشن سے مشاورت کرکے اسے کم سے کم ممکنہ سطح پر لایاجائے اور پی آئی اے آئی ایل بورڈکی منظوری کے بعد دوبارہ جمع کرایاجائے۔
اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ پی آئی اے آئی ایل تازہ ترین آڈٹ شدہ مالیاتی رپورٹس وزارتِ خزانہ کو پیش کرے۔ واضح رہے کہ روزویلٹ ہوٹل کو مئی 2023 میں ای سی سی کی منظوری سے نیویارک سٹی کے ساتھ ایک مہاجرکاروباری معاہدے کے تحت دوبارہ کھولاگیا تھا، ہوٹل کو 18 ماہ کی گارنٹی کے ساتھ تین سال کیلیے لیز پر دیاگیا،تاہم امریکا میں حکومتی تبدیلی کے بعد معاہدہ 30 جون 2025 کوختم کر دیا گیا۔
پی آئی اے آئی ایل کے مطابق معاہدے کے دوران ہوٹل نے مئی 2023 سے جون 2025 تک 166 ملین ڈالرآمدن حاصل کی،جبکہ اخراجات اور واجبات کی مدمیں 169 ملین ڈالر درکار ہیں، پی آئی اے آئی ایل نے 3.5 ملین ڈالرکی دستیاب رقم سے خسارہ پوراکرنے کاعندیہ دیا ہے۔
معاہدے کے خاتمے کے بعدجولائی تا دسمبر 2025 کیلیے ہوٹل کی آمدن بندہوجائے گی، اس عرصے میں 28.6 ملین ڈالرکے اخراجات کی ادائیگی کاکوئی ذریعہ موجودنہیں ہوگا۔
وزارتِ خزانہ نے متعلقہ وزارت سے پی آئی اے آئی ایل کی مالیاتی رپورٹ اور "ہائی گیٹ کیپیٹل" کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متوقع آمدنی کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے ا ئی ایل کی ادائیگی کے ساتھ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔