پنجاب بلدیاتی انتخابات،پی ٹی آئی کے میدان سے باہر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2025ء) پنجاب بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے میدان سے مکمل باہر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ذرائع کے مطابق پنجاب بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی اپنے امیدوار نہیں لاسکے گی کیونکہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لئے پی ٹی آئی کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے۔
(جاری ہے)
آزاد منتخب ہونے کی صورت میں امیدوار تحریک انصاف جوائن بھی نہیں کرسکیں گے، نئے قانون کے تحت منتخب کونسلرز کا 30دن میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا لازم ہے، پی ٹی آئی حمایتی کامیاب امیدوار کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی بھی نہیں کرسکے گی۔
پی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس الیکشن کمیشن میں 19ماہ سے زیر التواء ہے، پی ٹی آئی وکلاء نے انٹراپارٹی کیس کا تصفیہ کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جس کے باعث 19ماہ گزرنے کے باوجود کیس کا فیصلہ نہ ہو سکا۔لاہور ہائیکورٹ میں سٹے کے باعث کمیشن نے سماعت روک رکھی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلدیاتی انتخابات پی ٹی آئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔