قوم کو یقین دلاتا ہوں اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
قوم کو یقین دلاتا ہوں اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، فیلڈ مارشل WhatsAppFacebookTwitter 0 18 October, 2025 سب نیوز
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشان امتیاز، ملٹری، ہلالِ جرات نے کہا ہے کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے انتہائی اعزاز اور باعث فخر ہے،میں بنگلہ دیش، عراق، مالی، مالدیپ، نائیجیریا، نیپال، فلسطین، قطر، سری لنکا اور یمن سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کو بھی اس عظیم ادارے سے تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام سے اب تک، افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، وطن عزیز کے بیرونی اور اندرونی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حالیہ آپریشن ’’معرکۂ حق/ بنیان مرصوص‘‘ میں افواجِ پاکستان نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور عزم سے دشمن کو شکست دے کر قوم کا اعتماد مزیدمستحکم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ازلی دشمن کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا،دشمن کی متعدد بیسز بشمول ایس-400 سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا اور پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔
عاصم منیر نے کہا کہ اللہ کے فضل اور قومی عزم کے ساتھ، ہم نے من حیث القوم متحد ہو کر فولادی دیوار کی مانند دشمن کا مقابلہ کیا،پاکستان نے ایک بار پھر ایک ایسے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی جو اپنی گمراہ کن بالادستی کے غرور میں مبتلا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے جلد بازی میں الزام تراشی کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کیا،بھارت کا خود ساختہ شواہد پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی حکمران جماعت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے دہشت گردی کو سیاسی رنگ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عددی طور پر بڑے دشمن کے خلاف اپنی واضح فتح کی بدولت نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کا وقار اور داد حاصل کی، نوجوانوں میں یہ اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا ایک بنیادی ستون ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، میں نہایت فخر کے ساتھ پاکستانی عوام کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں،میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ہر سپاہی، سیلر، فضائیہ کے جوانوں، بہادر مرد، خواتین، بچے، اور بزرگ جنہوں نے ان کٹھن حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔
سید عاصم منیر نے کہا کہ اُن غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے یہ جنگ لڑی، قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں،قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے، ٹرمپ پاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے، ٹرمپ ایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان کی بھرپور پذیرائی، عالمی سطح پر کیس اسٹڈی کے طور پر پیش آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت گرم، مزید 3وزرا مستعفی، تعداد 4ہوگئی سعودی حکام ابراہام معاہدے میں شامل ہونے کو تیار ہیں، صدر ٹرمپ کا دعوی عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلی کے پی کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع پاکستان اور یو اے ای کے درمیان فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا معاہدہ طے پاگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیش کرتا ہوں پاکستان نے کہ پاکستان فیلڈ مارشل نے کہا کہ
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز