تحفظات سے وفاق کو آگاہ کردیا، کراچی کےلیےکام کیا جائے تو خوش ہوں گے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر سندھ حکومت کے تحفظات سے وفاق کو آگاہ کیا ہے، ہم خوش ہوں گے جب کراچی کے لیے کام کیا جائے، کراچی کے ترقیاتی منصوبے پر وفاق سے بات ہوئی ہے۔جو بھی ترقیاتی کام ہوں وہ اٹھارویں ترمیم کے مطابق ہوں۔
وہ سانحہ کارساز کی 18 ویں برسی کے موقع پر شاہراہ فیصل پر شہداء کی یادگار پر حاضری دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کی 18 ویں برسی کے موقع پر شاہراہ فیصل پر شہداء کی یادگار پر حاضری دی، پھول رکھے اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ، پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، سینیٹر وقار مہدی، شرجیل میمن، سعید غنی، ناصر شاہ، مرتضی وہاب، روف ناگوری اور دیگر رہنماء موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سانحہ کارساز دہشت گردی کا بہت بڑا واقعہ تھا، بے نظیر بھٹو کا قتل ملک اور وفاق کے خلاف سازش تھی، پیپلز پارٹی آج بھی بی بی کے مشن کو آگے لیکر چل رہی ہے، ہم اپنے قائدین کے وژن کے مطابق پاکستان کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں، شہید بی بی غریب عوام کی آواز تھیں، کارساز کے مقام پر بے نظیر بھٹو کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا، کارکنان شہید ہوئے، بے نظیر بھٹو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے ڈری نہیں، بے نظیر بھٹو نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 27 دسمبر 2007کو بے نظیر بھٹو شہید ہوگئیں، بے نظیر بھٹو نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور قبول شہادت کی، پیپلز پارٹی آج بھی شہید بے نظیر بھٹو کے فلسفہ مشن اور جدوجہد کو لے کر آگے چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمسائے ملک سے ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہیں اور ایک سلسلہ چل رہا ہے، پیپلز پارٹی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں کئی بڑے واقعات ہوئے ہیں، جو قومی سانحات ہیں۔ 18 اکتوبر کو کارساز کا واقعہ ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ تھا ۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پیپلز پارٹی، ملک اور وفاق کے خلاف ایک سازش تھی، یہ بدقسمتی ہےکہ کچھ معاملات کو شفاف طریقے سے حل نہیں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر سندھ حکومت کے تحفظات سے وفاق کو آگاہ کیا ہے، ہم خوش ہوں گے جب کراچی کے لیے کام کیا جائے، کراچی کے ترقیاتی منصوبے پر وفاق سے بات ہوئی ہے۔جو بھی ترقیاتی کام ہوں وہ اٹھارویں ترمیم کے مطابق ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت بہت بڑی کامیابی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو پیپلز پارٹی کراچی کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔