شکارپور،سراج درانی کے انتقال پر آبائی گائوں سوگ میں ڈوب گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251016-11-15
شکارپور (نمائندہ جسارت) سندھ اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ایم پی اے آغا سراج خان درانی مختصر علالت کے بعد کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ کچھ عرصے سے زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال کی خبر نے سندھ کی سیاست، پیپلز پارٹی اور عوامی حلقوں میں گہرے دکھ کی لہر دوڑا دی۔ انکے انتقال کی خبر سنتے ہی ان کے آبائی گاؤں گڑھی یاسین میں سوگ کا سماں چھا گیا تحصیل گڑھی یاسین کی تمام مارکیٹیں بند ہو گئیں۔ صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم شھباز شریف ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ آغا سراج درانی کی سیاسی و عوامی خدمات سندھ کی تاریخ کا روشن باب ہیں جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پی پی پی ضلع شکارپور کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔ایم پی اے امتیاز احمد شیخ ، ایم این اے شہریار خان مہر، صوبائی صلاح کار میر بابل خان بھیو، سابق وفاقی وزیر میر عابد حسین بھیو ، سردار جاگن خان بھیو ،میونسپل کمیٹی شکارپور کے چیئرمین فیاض محمود شیخ، ڈسٹرکٹ کونسل شکارپور کے چیئرمین سردار ذوالفقار خان کماریو اور دیگر کی جانب سے آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ آغا سراج خان درانی 5 اکتوبر 1953ء کو ضلع شکارپور کے علاقے گڑھی یاسن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول کراچی سے حاصل کی، جبکہ بیچلر آف کامرس اور ایل ایل بی (قانون) کی ڈگری سندھ مسلم لا کالج کراچی سے مکمل کی۔ وہ ایک قدیم سیاسی و بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جن کے بزرگوں نے بھی سندھ کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ آغا سراج درانی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا اور 1988ء میں پہلی بار سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد ازاں وہ متعدد بار رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ سال 2013ء میں انہیں سندھ اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے ایک دہائی سے زائد عرصہ ذمہ داریاں نبھائیں۔ اپنے دورِ اسپیکر شپ میں وہ اسمبلی کی کارروائی میں نظم و ضبط، شائستگی اور وقار کے حوالے سے نمایاں رہے۔ سال 2022ء میں وہ کچھ عرصہ کے لیے قائم مقام گورنر سندھ بھی رہے۔ اگرچہ آغا سراج درانی کو اپنے سیاسی سفر میں احتساب کے مقدمات اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ ہمیشہ اپنے مؤقف پر قائم رہے کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے۔ آغا سراج درانی کی نمازِ جنازہ اور تدفین گڑھی یاسین میں ہوگی، جس میں پارٹی کارکنان سمیت سیاسی سماجی شخصیات شرکت کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے انتقال
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔