سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی 72 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن، اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ، صوبائی وزراء، پارلیمنٹرنز اور پارٹی رہنماؤں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی 72 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی طویل عرصے سے علیل تھے اور کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے، آغا سراج درانی کی حالت کئی ہفتوں سے تشویشناک تھی، ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی پیپلزپارٹی کے رہنماں، کارکنوں اور عوامی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ آغا سراج درانی کا شمار سندھ کی سیاسی دنیا کی قد آور شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا اور کئی دہائیوں تک پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن، اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ، صوبائی وزراء، پارلیمنٹرنز اور پارٹی رہنماؤں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آغا سراج درانی کو ایک ماہ قبل برین ہیمبرج ہوا تھا جس کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور پھر چند روز قبل دوبارہ ان کی طعیبت خراب ہوگئی تاہم بدھ کو ڈاکٹرز نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں آغا سراج درانی کے انتقال کی خبر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سیاسی اور جمہوری خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی پیپلز پارٹی کے مخلص، وفادار اور اصول پسند رہنما تھے۔
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج نے سندھ اسمبلی کی مضبوطی اور جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا، مرحوم آغا سراج درانی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ انہوں نے کہا کہ رب کائنات مرحوم آغا سراج درانی کے درجات بلند فرمائے، وزیراعلی سندھ کی مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبر جمیل کی دعا کی۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے آغا سراج درانی کی سیاسی، پارلیمانی اور عوامی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے وزیراعلی سندھ ان کے انتقال انہوں نے پارٹی کے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔