data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (کامرس ڈیسک ) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کے وسیع امکانات ہیں،ویتنام اور پاکستان میں پی ٹی اے کے حوالے سے مذاکرات تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا نادر موقع ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منعقدہ پاک ویتنام بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بزنس فورم میں وزیر ٹریڈ ویتنام نیگان ہونگ ڈائن،وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ،سیکرٹری تجارت جواد پال، ویتنام کی سفیر اور ایس آئی ایف سی حکام نے شرکت کی۔فورم میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جدون،راولپنڈی اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدور سمیت بزنس کمیونٹی کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔اس موقع پرعاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان موجودہ تجارتی حجم دونوں ملکوں کی صلاحیت سے انتہائی کم ہے، پاکستان اور ویتنام میں مختلف شعبوں میں دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کے وسیع امکانات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان بی ٹو بی سطح پر روابط کو مظبوط بنانے، صنعتی تعاون کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی سطح پر تجارتی تعلقات میں اضافہ خطے کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ویتنام اور پاکستان میں پی ٹی اے کے حوالے سے مذاکرات تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا نادر موقع ہیں،دونوں ممالک کے درمیان لارج ،میڈیم اور سمال سکیل پر تعاون کے وسیع امکانات موجو دہیں،پاکستان اور ویتنام کا تجارتی مستقبل انتہائی روشن ہے، بزنس کمیونٹی اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی،دونوں ممالک سائنس اینڈٹیکنالوجی،ٹیکسٹائل ،زراعت،سی فوڈ،حلال فوڈ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔

کامرس ڈیسک گلزار.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور ویتنام کے وسیع امکانات تجارتی حجم کے درمیان میں اضافہ نے کہا

پڑھیں:

دہلی کار بلاسٹ کے بعد "ای ڈی" نے الفلاح یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا

ای ڈی نے ملک بھر میں گروپ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی شناخت اور جائزہ لینے کیساتھ ساتھ اس گروپ کیطرف سے مبینہ طور پر بیرون ملک بھیجی گئی رقم کی شناخت کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ الفلاح یونیورسٹی اور اسکے ٹرسٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق گرفتار چیئرمین نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر دہلی میں زمین کے کچھ پلاٹ حاصل کئے ہیں۔ ہریانہ کے فرید آباد ضلع میں واقع الفلاح یونیورسٹی 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات میں ہے جس میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارہ کم از کم پانچ ایسے معاملات کی تحقیقات کر رہا ہے جہاں الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جواد احمد صدیقی سے منسلک ایک ٹرسٹ نے مبینہ طور پر پلاٹوں کے حصول کے لئے جعلی دستاویزات کا استعمال کیا۔

جواد احمد صدیقی کو ای ڈی نے 18 نومبر کو الفلاح گروپ اور اس سے منسلک اداروں کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں چھاپوں کے بعد گرفتار کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ان پلاٹ کے لئے جنرل پاورز آف اٹارنی (جی پی اے) کچھ متوفی افراد کے نام ہو سکتے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ ای ڈی نے ملک بھر میں گروپ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی شناخت اور جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس گروپ کی طرف سے مبینہ طور پر بیرون ملک بھیجی گئی رقم کی شناخت کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ ایجنسی اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت ان جائیدادوں کو ضبط کر سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہلی کار بلاسٹ کے بعد "ای ڈی" نے الفلاح یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا
  • نیدرلینڈز میں بڑھتے سیلاب اور رہائش کی کمی کے درمیان تیرنے والے گھروں کی مانگ میں اضافہ
  • جی ایس پی پلس سٹیٹس جاری رکھنے پر اتفاق : تجارتی شراکت داری  کے  عزم کا اعادہ 
  • غزہ؛ فلسطینیوں کی  نسل کشی میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب، تجارتی معاہدے سامنے آگئے
  • پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ
  • کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • کابل اور تہران کا تجارتی تعاون کے فروغ اور ٹرانزٹ راستوں کی ترقی پر زور
  • بھارت اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کیلئے ٹرمز آف ریفرنس پر دستخط
  • پاک، یو اے ای اسٹریٹجک معاشی شراکتداری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق