پاکستان اور ویتنام میں تجارتی حجم میں اضافہ کے وسیع امکانات ہیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈیسک ) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کے وسیع امکانات ہیں،ویتنام اور پاکستان میں پی ٹی اے کے حوالے سے مذاکرات تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا نادر موقع ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منعقدہ پاک ویتنام بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بزنس فورم میں وزیر ٹریڈ ویتنام نیگان ہونگ ڈائن،وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ،سیکرٹری تجارت جواد پال، ویتنام کی سفیر اور ایس آئی ایف سی حکام نے شرکت کی۔فورم میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جدون،راولپنڈی اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدور سمیت بزنس کمیونٹی کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔اس موقع پرعاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان موجودہ تجارتی حجم دونوں ملکوں کی صلاحیت سے انتہائی کم ہے، پاکستان اور ویتنام میں مختلف شعبوں میں دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کے وسیع امکانات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان بی ٹو بی سطح پر روابط کو مظبوط بنانے، صنعتی تعاون کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی سطح پر تجارتی تعلقات میں اضافہ خطے کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ویتنام اور پاکستان میں پی ٹی اے کے حوالے سے مذاکرات تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا نادر موقع ہیں،دونوں ممالک کے درمیان لارج ،میڈیم اور سمال سکیل پر تعاون کے وسیع امکانات موجو دہیں،پاکستان اور ویتنام کا تجارتی مستقبل انتہائی روشن ہے، بزنس کمیونٹی اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی،دونوں ممالک سائنس اینڈٹیکنالوجی،ٹیکسٹائل ،زراعت،سی فوڈ،حلال فوڈ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور ویتنام کے وسیع امکانات تجارتی حجم کے درمیان میں اضافہ نے کہا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔