میٹا اور پی ٹی اے کا آن لائن دھوکہ دہی سے بچاؤ کیلئے مشترکہ اقدام
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: میٹا نے پی ٹی اے کے اشتراک سے آن لائن دھوکہ دہی سے متعلق آگاہی مہم “کیا یہ اصلی ہے؟” کا آغاز کر دیا ہے۔
میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور تعلیمی پلیٹ فارم EYEYAH! کے تعاون سے ایک نئی سوشل مہم اور انٹرایکٹو آن لائن تجربہ “کیا یہ اصلی ہے؟” متعارف کرایا ہے۔ اس مہم کا مقصد پاکستان میں بڑھتی ہوئی آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے طریقوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔
یہ اقدام ایشیاء پیسیفک (APAC) خطے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہے، جو 15 سے زائد ممالک میں شروع کی جا رہی ہے تاکہ محفوظ ڈیجیٹل تجربات کو فروغ دیا جا سکے۔
مہم میں صارفین کو سات عام اقسام کی آن لائن دھوکہ دہی کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے، جن میں رومانوی، شاپنگ، نقالی، سرمایہ کاری، ملازمت، اکاؤنٹ ہیکنگ اور جعلی پیغامات شامل ہیں۔ اسے دلچسپ، بصری اور کھیل کے انداز (گیمیفائیڈ) میں تیار کیا گیا ہے تاکہ لوگ خطرے کی علامات کو آسانی سے پہچان سکیں۔
اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان HI(M), SI نے کہا کہ پی ٹی اے ایک محفوظ اور باخبر ڈیجیٹل ماحول کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشتراک ڈیجیٹل خواندگی بڑھانے اور صارفین کو آن لائن دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے پی ٹی اے اور میٹا کی مشترکہ کوششوں کا تسلسل ہے۔
میٹا کی ہیڈ آف پاکستان پبلک پالیسی دانیا مختار نے کہا کہ،
“میٹا پاکستان میں اپنی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ ہم اپنے پلیٹ فارمز سے دھوکے بازوں کو ہٹانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، مگر چونکہ ایسے عناصر اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے صارفین کو تعلیم اور آگاہی دینا ضروری ہے۔ اس مہم کے ذریعے ہم لوگوں کو ایک دلچسپ اور انٹرایکٹو انداز میں یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ وہ دھوکہ دہی کی پہچان کیسے کریں اور خود کو محفوظ رکھیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میٹا پی ٹی اے کی شراکت داری کا شکر گزار ہے جو اس آگاہی مہم کو ملک بھر میں وسعت دینے اور کمیونٹی کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے میں مدد کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آن لائن دھوکہ دہی پی ٹی اے کے لیے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔