نادرا کا شناختی نظام مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے قواعد کا اجراء
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
نادرا نے شناخت کا نظام مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کےلیے قواعد کا اجراء کر دیا۔
نادرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قواعد میں ڈیجیٹل آئیڈنٹیٹی ریگولیشنز، نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر ریگولیشنز شامل ہیں۔
ترجمان نادرا نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل آئی ڈی ریگولیشنز کے تحت نادرا ملک بھر میں مربوط ڈیجیٹل شناختی نظام قائم کرے گا۔
نادرانادرا نے وفات کے باعث شناختی کارڈ منسوخی کی.
نادرا کے ترجمان کے مطابق شہری شناخت کی تصدیق کے بعد متعدد آن لائن سرکاری و نجی خدمات تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ترجمان نادرا کا کہنا ہے کہ این ڈی ای ایل کے ذریعے حکومت اور نجی شعبے کے مجاز اداروں کے درمیان ڈیٹا کا محفوظ تبادلہ ہو سکے گا۔
نادرا کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں ریگولیٹری فریم ورکس ایک بااعتماد ڈیجیٹل نظام کے لیے بنیاد کا کام دیں گے، جس سے خدمات کی فراہمی بہتر ہو گی اور ڈیجیٹل معیشت مستحکم ہو گی۔
ترجمان نادرا کے مطابق حکومت کی زیرِ قیادت ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل پر شہریوں کا اعتماد مضبوط ہو گا، نادرا اتھارٹی بورڈ نے یہ قواعد وزارتِ قانون کی منظوری کے بعد جاری کیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نادرا کے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔