data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ملکی عدالتی تاریخ کے کافی پرانے اور اہم نوعیت کے مقدمے نے بالآخر اہمیت پا لی۔ سپریم کورٹ نے انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے سے متعلق کیس کو باضابطہ طور پر سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

کئی دہائیوں سے زیر التوا یہ معاملہ اب ایک مرتبہ پھر بڑے عدالتی فورم پر زیر بحث  آ رہا ہے، جس کی وجہ سے قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں میں غیرمعمولی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ تشکیل دیا ہے، جو 5 دسمبر کو پہلی باضابطہ کارروائی کرے گا۔

یہ بینچ تقریباً ڈیڑھ سال کے تعطل کے بعد بحال کیا گیا ہے، جس کی دوبارہ تشکیل کے بعد اس طویل مدت سے رکے ہوئے کیس کی پیش رفت ممکن ہو سکی ہے۔

یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ موجودہ انتخابی ڈھانچے کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دینے کی درخواست تقریباً 36 برس قبل دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملک کے انتخابی طریقہ کار، نمائندگی کے حصول کے اصول، اور ووٹنگ کا موجودہ تصور اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس وقت کی شریعت کورٹ نے اس درخواست پر فیصلہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں حکومت نے اس فیصلے کے خلاف 1989 میں اپیلیں دائر کر دی تھیں، جن پر آج تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔

قانونی حلقوں کے مطابق اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہونے سے نہ صرف انتخابی ڈھانچے کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے سوال پر نئی بحث جنم لے گی بلکہ اس کے ممکنہ اثرات آئینی، سیاسی اور جمہوری نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالتِ عظمیٰ کسی بڑے اصولی فیصلے تک پہنچتی ہے تو یہ پاکستان کے انتخابی نظام، نمائندگی کے طریقہ کار اور سیاسی سرگرمیوں کے پورے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔

.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا

وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ 3 دسمبر کو کرے گا۔

سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس لیا تھا۔ 27 ویں ترمیم کے بعد از خود نوٹس مقدمات آئینی عدالت کو منتقل ہو چکے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر 

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پیر سے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔ جسٹس ارشد حسین اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں۔ آئینی عدالت کا بینچ نمبر ایک یکم دسمبر سے پانچ دسمبر تک سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

آئندہ ہفتے تین بینچز مقدمات کی سماعت کے لیے دستیاب ہوں گے۔ 

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمات سنے گا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ مقدمات کی سماعت کرے گا، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کریم خان آغا بینچ تین میں مقدمات سنیں گے۔

سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری 

سپریم کورٹ 18 دسمبر 2025 سے 31 دسمبر 2025 تک تعطیلات ہوں گی۔ سپریم کورٹ یکم جنوری 2026 کو دوبارہ کھلیں گی۔ 

تعطیلات کے دوران عدالت کے دفاتر کھلے رہیں گے جبکہ تعطیلات کے دوران ارجنٹ و دیگر فکس مقدمات کی سماعتیں ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • 9 مئی مقدمات:اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی 10 سال کی سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر
  • آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی
  • 9 مئی کے مقدمات: اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید کی 10 سال کی سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا
  • علیمہ خان کے خلاف مقدمہ، سرکاری وکیل مقرر کرنے کا حکم جاری
  • جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس یکم دسمبر کو سماعت کے لئے مقرر
  • ٹرمپ کے خلاف انتخابی مداخلت کا مقدمہ خارج
  • جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس سماعت کے لئے مقرر