UrduPoint:
2026-06-02@20:58:18 GMT

ڈیورنڈ لائن: پاک افغان تعلقات میں تناؤ سے عبارت مشترکہ سرحد

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

ڈیورنڈ لائن: پاک افغان تعلقات میں تناؤ سے عبارت مشترکہ سرحد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اکتوبر 2025ء) کئی سیاسی ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ، سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور پشتون باشندوں کی علاقائی رقابتیں مل کر پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات کو ایک ایسے نازک موڑ پر لے آئے ہیں، جہاں نہ صرف پاکستان کا داخلی امن بلکہ پورے خطے کی سلامتی بھی سنگین خطرے میں ہے۔

ڈیورنڈ لائن کس طرح وجود میں آئی؟

معروف تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے اس تاریخی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ 1893ء میں افغان امیر عبدالرحمان خان اور برٹش انڈیا کے نمائندے مورٹیمر ڈیورنڈ کے مابین ہونے والے ایک معاہدے کے تحت افغانستان اور اس برطانوی نوآبادی کے درمیان سرحد کا تعین کیا گیا، جو بعد میں ''ڈیورنڈ لائن‘‘ کہلائی۔

(جاری ہے)

امیر عبدالرحمان خان نے اسے افغانستان کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے بعد ازاں اپنی سوانح حیات میں لکھا تھا کہ پہلی بار ان کے ملک کی سرحدیں باضابطہ طور پر طے ہو گئیں۔ ساتھ ہی اس افغان امیر نے قبائلی سرداروں کو اس معاہدے کے احترام اور اس پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی تھی۔

کیا پاک افغان سرحد پر جنگ بندی پائیدار ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے بتایا کہ 1893ء سے 1946ء تک کسی بھی افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو متنازعہ قرار نہیں دیا تھا۔

بعد ازاں راولپنڈی معاہدے (1919ء) سمیت مختلف ادوار میں کئی دیگر معاہدے بھی ہوئے، لیکن کسی میں بھی ڈیورنڈ لائن پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔ عبدالغفار خان کا متنازعہ بیان اور پاکستان کا موقف

ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ 1946ء میں جب قیام پاکستان کی تیاریاں جاری تھیں، تو خان عبدالغفار خان کابل گئے تھے اور وہاں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سرحدی علاقے یا تو آزاد رہیں یا پھر افغانستان میں شامل ہو جائیں، مگر پاکستان کا حصہ نہ بنیں۔

تاہم ''ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور تقسیم ہند کے بعد یہ علاقے پاکستان میں شامل ہو گئے تھے۔‘‘

پاکستانی اور افغان فورسز میں جھڑپیں، ہلاکتوں کی اطلاعات

ڈاکٹر رئیس کے مطابق 1893ء کے معاہدے کے بارے میں پاکستانی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے، جس کا دوبارہ تعین نہیں کیا جا سکتا۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی جانشین ریاست اپنی پیش رو ریاست کے طے کردہ معاہدوں کی وارث ہوتی ہے، اس لیے پاکستان بھی برطانوی ہند کا جانشین ہونے کے وجہ سے ڈیورنڈ معاہدے کا وارث ہے۔

انہوں نے کہا، ''اگرچہ بعض افغان دانشور برطانوی نوآبادیاتی دور کی سرحدوں کے ازسرنو تعین کے حامی ہیں، تاہم ان کا یہ نقطہ نظر نہ تو کوئی قانونی حیثیت رکھتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی برادری کی طرف سے اسے قبول کیا گیا ہے۔

‘‘ خطے کی پیچیده حقیقت

کئی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے ریاستی تعلقات ایک بار پھر اپنی تاریخ کے بدترین مرحلے میں ہیں، اور ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ اپنی تاریخی، سیاسی اور نسلی جہتوں کے ساتھ آج بھی اس خطے کی پیچیدہ ترین حقیقتوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان، افغانستان جھڑپیں: ٹرمپ اور ایران کی ثالثی کی پیشکش

سلامتی امور کے تجزیہ کار محمد عامر رانا کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان، افغانستان اور بالواسطہ طور پر بھارت کے درمیان ایک بڑا تنازعہ ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسے تقریباً ایک باضابطہ بین الاقوامی سرحد کی شکل دے دی ہے، جہاں باڑ لگانے کے ساتھ ساتھ 750 سے زائد چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

عامر رانا کے بقول افغانستان اپنی کمزور سیاسی اور اسٹریٹیجک حیثیت کے باعث اس سرحدی تنازعے کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور کابل کی طرف سے پاکستانی طالبان کی ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کی حمایت بھی موجودہ غیر یقینی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔

ڈیورنڈ لائن سے متعلق افغان موقف

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں دفاعی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر سائرہ عاقل نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ قانونی طور پر نوآبادیاتی دور کے بعد بننے والی آزاد ریاستیں اپنی سابقہ سرحدیں برقرار رکھتی ہیں۔ لہٰذا یہ 'لائن‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک قانونی بین الاقوامی سرحد ہے، جس کی 1947ء میں عالمی سطح پر توثیق بھی ہو گئی تھی۔

تاہم افغانستان کا موقف یہ ہے کہ 1893ء کا معاہدہ دباؤ میں طے پایا تھا اور اسی لیے موجودہ افغانستان اسے تسلیم نہیں کرتا۔

پاکستان کے 58 فوجی ہلاک کر دیے، افغانستان کا دعویٰ

پاک افغان امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار طاہر خان کے مطابق، ''افغان طالبان ڈیورنڈ لائن کو فرضی سرحد قرار دیتے ہیں جبکہ پاکستان اسے بین الاقوامی سرحد مانتا ہے۔

اب موجودہ کشیدگی کی اصل وجہ پاکستانی طالبان کی بڑھتی ہوئی مسلح سرگرمیاں بھی ہیں۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حامی عناصر بھی ہیں اور اس سرحد سے متعلق اختلاف رائے بہرحال اب ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔‘‘ علاقائی سلامتی کے لیے چیلنج

تجزیہ کار طاہر خان کے مطابق علاقائی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ''ماسکو فارمیٹ، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور تنظیم برائے اقتصادی تعاون (ای سی او) جیسے فورمز میں افغانستان میں دوبارہ سرگرم شدت پسند گروہوں — جیسے القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان — کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ان گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ افغان طالبان کی جانب سے ان شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا نہ کیا جانا مستقبل میں خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

پاکستان: ٹی ٹی پی کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل، میجر سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک

افغان امور کے ماہر ڈاکٹر عبدالشکور کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور میڈیا طالبان حکومت کے موقف سے اختلاف کر رہے ہیں، جو ملک میں داخلی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

ان کے بقول، ''اگر پاکستان اور افغانستان نے اپنے اپنے سفارتی اور سیاسی ذرائع مؤثر طور پر استعمال نہ کیے، تو موجودہ کشیدگی خطے میں پہلی سے پائی جانے والی بے یقینی اور بداعتمادی میں اضافے کا سبب بنے گی۔‘‘ بھارت کا 'دوسرا محاذ‘

ممتاز تجزیہ کار آصف درانی نے پاک افغان تنازعے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایک 'دوسرا محاذ‘ قائم کرنے کے لیے افغانستان کو استعمال کرتا ہے اور ''مالی امداد اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے ایسے عناصر کی حمایت کرتا ہے، جو پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کریں۔

‘‘ آصف درانی کے الفاظ میں، ''بھارت کو افغان عوام سے کوئی حقیقی ہمدردی نہیں۔ وہ صرف اپنے مفادات کے لیے افغان گروپوں کو استعمال کرتا رہا ہے۔‘‘

افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہ سب سے بڑا خطرہ، پاکستان

افغان امور کے ماہر ڈاکٹر عبدالشکور کہتے ہیں کہ موجودہ پاک افغان کشیدگی کی بنیاد صرف ڈیورنڈ لائن ہی نہیں بلکہ باہمی اعتماد کے فقدان، سکیورٹی خدشات اور خطے کی بدلتی ہوئی اسٹریٹیجک ترجیحات بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا، ''دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ اعتماد اور بداعتمادی کے درمیان ہی رہے ہیں۔ کابل میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اور توقعات کے برعکس افغان طالبان نے ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس بنا پر بھی دوطرفہ تعلقات کشیدہ تر ہو گئے۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان اور افغانستان بین الاقوامی ڈیورنڈ لائن کرتے ہوئے کے درمیان تجزیہ کار پاک افغان ڈی ڈبلیو بتایا کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کے ساتھ کے لیے اور اس خطے کی

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی