تھریڈز میں گروپ چیٹس کا فیچر صارفین کیلئے متعارف
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
میٹا نے تھریڈز میں گروپ چیٹس کا فیچر متعارف کرا دیا ہے۔
اب اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے صارفین متعدد دوستوں سے بیک وقت چیٹ کرسکیں گے اور ہر ایک کو الگ الگ ڈائریکٹ میسجز بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
میٹا کے مطابق تھریڈز صارفین ایک نئے میسج کے ذریعے گروپ چیٹ کو تشکیل دے سکتے ہیں۔
اس گروپ چیٹ میں وہ 50 ایسے افراد کو ایڈ کرسکتے ہیں جو ان کو فالو کر رہے ہوں گے۔
گروپ چیٹ کا نام بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے تاکہ اس کے موضوع کا تعین ہوسکے۔
یہ سارا عمل فیس بک میسنجر کے گروپ میسجز جیسا ہی ہے۔
کمپنی کے مطابق گروپ چیٹ سپورٹ کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، مگر برطانیہ اور آسٹریلیا میں اسے پیش نہیں کیا جا رہا۔
میٹا کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مستقبل میں تھریڈز صارفین کے لیے ان باکس منیجمنٹ ٹولز کو بہتر بنایا جائے گا اور وہ تھریڈز صارفین کو گروپ چیٹس کا حصہ بننے کی دعوت ایک لنک شیئر کرکے دے سکیں گے۔
گروپ میسجنگ کا فیچر اس وقت متعارف کرایا گیا ہے جب تھریڈز کی جانب سے ڈائریکٹ میسجز کا فیچر یورپی یونین میں پیش کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔