میٹا کا میسنجر کی ڈیسک ٹاپ ایپ بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
میٹا نے اپنے مقبول میسجنگ پلیٹ فارم “میسنجر” کی ڈیسک ٹاپ ایپ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اور 15 دسمبر 2025 کے بعد میک او ایس اور ونڈوز کمپیوٹرز پر یہ ایپ دستیاب نہیں ہو گی۔ اس کے بعد صارفین صرف فیس بک ویب سائٹ یا میسنجر کی ویب ایپ کے ذریعے ہی چیٹ کر سکیں گے۔
کمپنی نے اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی، تاہم اندازہ ہے کہ صارفین کی جانب سے موبائل اور ویب ایپس کو زیادہ استعمال کیے جانے کے باعث یہ اقدام کیا گیا ہے۔
میٹا کے سپورٹ پیج پر جاری معلومات کے مطابق صارفین کو ایپ بند ہونے سے متعلق نوٹیفکیشن موصول ہو گا، اور مقررہ تاریخ کے بعد ڈیسک ٹاپ ایپ پر رسائی بند کر دی جائے گی۔
اپنی چیٹس کو محفوظ رکھنے کے لیے صارفین کو سکیور اسٹوریج کو آن کرنا ہو گا۔ یہ آپشن میسنجر کی ایپ میں پروفائل آئیکون کے ساتھ موجود گیئر آئیکن میں جا کر، پرائیویسی اینڈ سیفٹی سیکشن کے ذریعے ایکٹیویٹ کیا جا سکتا ہے۔ صارف کو ایک پن کوڈ سیٹ کرنا ہو گا تاکہ چیٹس سکیور طریقے سے آرکائیو ہو سکیں۔
یاد رہے، میٹا نے 2014 میں میسنجر کو فیس بک سے الگ کیا تھا تاکہ ایک مخصوص میسجنگ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ بعد ازاں انسٹاگرام اور میسنجر کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش بھی کی گئی، مگر یہ منصوبہ بھی مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔ اب بظاہر کمپنی کی میسجنگ ایپس میں دلچسپی محدود ہو گئی ہے، جس کا اشارہ ڈیسک ٹاپ ایپ کے خاتمے سے ملتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔