میٹا کا بڑا فیصلہ: 15 دسمبر سے میسنجر ڈیسک ٹاپ ایپ مکمل بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: میٹا نے اپنے صارفین کے لیے ایک اہم اور غیر متوقع اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میک او ایس اور ونڈوز پر چلنے والی میسنجر کی ڈیسک ٹاپ ایپس کو 15 دسمبر 2025 سے بند کیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے بعد کمپیوٹر استعمال کرنے والے صارفین صرف فیس بک یا میسنجر کی آفیشل ویب سائٹس کے ذریعے ہی چیٹ کر سکیں گے۔
میٹا کے ترجمان کے مطابق صارفین کو اس تبدیلی کے بارے میں جلد ہی نوٹیفکیشن موصول ہوگا، جس کے بعد ڈیسک ٹاپ ایپ تک رسائی ممکن نہیں رہے گی، تاہم کمپنی نے اس اقدام کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ میٹا کی توجہ اب زیادہ تر موبائل پلیٹ فارمز اور ویب بیسڈ چیٹنگ کے تجربے پر مرکوز ہو چکی ہے، کیونکہ زیادہ تر صارفین اب انہی ذرائع کو استعمال کرتے ہیں۔
میٹا سپورٹ پیج پر جاری تفصیلات کے مطابق صارفین کو اپنی چیٹس محفوظ رکھنے کے لیے “سکیور اسٹوریج” کو فعال کرنا ہوگا۔ اس کے لیے صارفین کو ڈیسک ٹاپ ایپ میں پروفائل پکچر کے اوپر موجود گیئر آئیکون پر جا کر “پرائیویسی اینڈ سیفٹی” میں جانا ہوگا، پھر “اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ چیٹس” کے آپشن میں جا کر “میسج اسٹوریج” پر کلک کریں اور وہاں “ٹرن آن سکیور اسٹوریج” کو فعال کر دیں۔
اس کے ساتھ ایک پن کوڈ بھی سیٹ کرنا ہوگا تاکہ چیٹس محفوظ انداز میں آرکائیو ہو جائیں۔
یاد رہے کہ میٹا نے پہلی بار 2014 میں میسنجر کو فیس بک سے الگ کیا تھا تاکہ صارفین کو ایک خصوصی میسجنگ پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔ بعد ازاں کمپنی نے انسٹاگرام اور میسنجر کو یکجا کرنے کی کوشش بھی کی مگر یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔ اب ڈیسک ٹاپ ایپس کی بندش سے عندیہ ملتا ہے کہ میٹا اپنی ترجیحات بدل چکا ہے اور موبائل ایپلیکیشنز کو ہی مستقبل کی بنیاد بنانا چاہتا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ میٹا کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جو نہ صرف اس کی پراڈکٹ اسٹریٹیجی پر اثر ڈالے گا بلکہ صارفین کے استعمال کے انداز کو بھی تبدیل کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔