سیلاب متاثرہ زرعی کمرشل صارفین کے اگست کے بجلی بل دسمبر تک مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
لاہور (ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرہ زرعی کمرشل صارفین کے اگست کے بجلی بل دسمبر تک مؤخر کردیے ہیں۔
نجی ٹی وی آج نیوز نے ذرائع پاور ڈویژن سے دعویٰ کیاہے کہ جنوری سے جون تک یہ صارفین قسطوں میں اگست کا بل ادا کریں گے، مجموعی طور پر گھریلو کمرشل صارفین کو اگست کے بلز میں 17ارب روپےکا ریلیف دیا گیا ہے۔
ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کو 11 ارب روپے معاف کردیے گیے، کمرشل اور زرعی صارفین کے 6 ارب کے بلز مؤخر کیے گئے ہی۔
حکومت نے مجموعی طور پر 25 لاکھ بجلی صارفین کو ریلیف دیا ہے، گھریلو صارفین جو بلز دے چکے اس مہینے ری فنڈ ہوچکا۔ کمرشل اور زرعی صارفین کو چارماہ تک بلوں سے متعلق ریلیف دیا گیا، کمرشل صارفین کے بل کے حساب سے جنوری سے جون تک فکس رقم شامل کی جائے گی۔
افغان حکومت بھارت سے خوشگوار تعلقات رکھے لیکن پاکستان کی سلامتی کی قیمت پر نہیں: سعد رفیق
ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ سیلاب متاثرہ صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کمرشل صارفین صارفین کو صارفین کے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔