City 42:
2026-06-03@02:42:20 GMT

وفاقی حکومت کا مارکیٹ سے بجلی کی خریداری کرنے کا حتمی فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

سٹی42: وفاقی حکومت نے مارکیٹ سے براہ راست بجلی کی خریداری کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

 نیپرا نے پرائیویٹ جنریٹرز سے بجلی کی خریداری کے لیے فائنل ٹیسٹ رپورٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کمرشل کوڈ (Market Commercial Code) کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس کوڈ کی بنیاد پر اب بڑے صنعتی اور کمرشل صارفین پرائیویٹ پاور جنریٹرز سے براہ راست بجلی خرید سکیں گے۔

مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان

مارکیٹ کمرشل کوڈ میں بجلی کی سروس فراہمی، تنازعات کا حل، اور گورننس سے متعلق اصول وضع کیے گئے ہیں۔ اس نئے نظام کے تحت دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے سپلائر اور بڑے صارفین کے درمیان براہ راست بجلی کی خرید و فروخت ممکن ہو جائے گی، جس سے بجلی کی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ ملے گا۔

اس مقابلے کی فضا سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے امکانات بڑھ جائیں گے، اور صارفین کو بہتر نرخ پر بجلی کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام سے ملک میں برسوں سے رائج سنگل بائر ماڈل کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا، اور بجلی کی منڈی میں ایک نیا باب شروع ہوگا۔ بلنگ چارجز کا تعین مکمل ہونے کے بعد مارکیٹ سے بجلی کی خریداری کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔
 
 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ''فتنہ الخوارج''کے خلاف کامیاب آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 بجلی کی خریداری سے بجلی کی

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم