وزیراعظم کی ایف بی آر کوتنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ریٹ کم کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) وزیر اعظم نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ریٹ کم کرنے کی ہدایت کردی ، جس کے بعد ٹیکس ریٹ کم کرنے کے اقدامات پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پاکستان بزنس کونسل کے سیمینار سے خطاب میں بتایا کہ وزیر اعظم شہبازشریف نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ریٹ کم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریٹ کم کرنے کے اقدامات پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
راشد لنگڑیال نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق بڑی کمپنیوں پر عائد سپرٹیکس میں کمی کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے، تاہم ٹیکس ریٹ میں کمی کا انحصار ٹیکس کمپلائنس پر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ٹیکس دہندگان جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی ٹیکس ریٹ کم کیا جا سکے گا۔
ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ سپرٹیکس مرحلہ وار کم اور آخرکار ختم کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے بات چیت بھی کی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ سپرٹیکس میں کمی اور خاتمے کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سپرٹیکس میں کمی کے پہلے مرحلے کے آغاز کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔