سیلاب زدہ علاقوں کے لیے بڑی ریلیف: حکومت نے اگست کے بجلی کے بل معاف کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سیلاب سے متاثرہ عوام کے لیے حکومت نے بڑا ریلیف پیکیج دیتے ہوئے اگست کے مہینے کے بجلی کے بل معاف کر دیے ہیں۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق، اس اقدام کا مقصد قدرتی آفت سے متاثرہ شہریوں کو فوری مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ رعایت تمام گھریلو صارفین پر لاگو ہوگی، چاہے وہ کسی بھی کیٹیگری میں آتے ہوں۔ جو صارفین پہلے ہی اگست کے بل جمع کرا چکے ہیں، ان کی ادائیگیاں آئندہ بلوں میں ایڈجسٹ کر دی جائیں گی۔
اس کے علاوہ کمرشل اور دیگر غیر گھریلو کیٹیگریز کے لیے بھی سہولت دی گئی ہے۔ ان صارفین کے اگست کے بل دسمبر تک مؤخر کر دیے گئے ہیں، اور یہ واجبات 6 ماہ کی آسان اقساط میں وصول کیے جائیں گے۔
یہ اقدام سیلاب متاثرین کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جو مشکل وقت میں مالی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔