آزاد کشمیر: سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، مزید 2 وزراء مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
آزاد کشمیر میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا،وزیر خزانہ عبدالماجد خان اور وزیر خوراک چوہدری اکبر ابراہیم بھی مستعفی ہوگئے۔وزراء نے حکومت پر آئین شکنی اور مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگا دیا۔عبدالماجد خان کا کہنا تھا کہ مہاجرینِ مقیمِ پاکستان کے حقوق غصب کیے گئے.حکومت نے نفرت انگیز بیانیہ فروغ دیا. ریاستی وحدت کو نقصان پہنچا۔ترقیاتی فنڈز سیاسی وفاداریاں خریدنے پر خرچ کیے گئے.
یاد رہے وزیر خزانہ عبد الماجد خان اور وزیر خوراک چودھری اکبر ابراہیم نے گزشتہ روز تحریری استعفے وزیر اعظم چودھری انوار الحق کو بھیج د ئیے تھے۔دونوں وزرا نے اپنے استعفوں میں لکھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ مہاجرین کے منتخب نمائندے ہیں جو پاکستان بھر میں آباد ہیں ۔انہوں نے کہا عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے نشستوں کی مخالفت پر وہ وزارتوں سے مستعفی ہو رہے ہیں. مہاجرین کے لئے آئینی طور پر مختص 12 نشستوں کو ختم کرنے کے غیر منصفانہ اور بے بنیاد مطالبے کی سختی سے مخالفت کرتے رہیں گے ۔
یاد رہے اس سے قبل وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید شاہ نے بھی استعفیٰ دیا تھا .اس طرح اب مستعفی ہونے والے وزرا کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔