آزاد کشمیر کے مزید 2 وزراء حکومت سے علیحدہ‘ وزیراعظم چودھری انوار الحق پر سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
مظفرآباد (نامہ نگار) وزیر خزانہ آزاد کشمیر عبدالماجد خان اور وزیر خوراک چوہدری اکبر ابراہیم نے حکومت سے علحیدگی کا اعلان کر دیا اور وزیر اعظم آزاد کشمیر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرینِ مقیمِ پاکستان کے حقوق غصب کئے گئے ہیں۔ وزراء نے مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر سنگین نوعیت کے سیاسی، آئینی، مالی اور انتظامی الزامات عائد کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حکومت نے مہاجرینِ مقیمِ پاکستان کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے، نفرت انگیز بیانیہ فروغ دیا ہے، اور ریاستی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ عبدالماجد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ریاست میں ایک خطرناک اور منظم نفرت انگیز بیانیہ تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد ''مہاجرینِ مقیمِ پاکستان اور مقامی شہریوں '' کے درمیان تفریق پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا یہ پہلی بار ہے کہ ریاست کے اندر نفرت کو بنیاد بنا کر سیاست کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مہاجرین کو ہدف بنایا گیا، انہیں غدار اور لوٹ مار کرنے والا قرار دیا گیا۔ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کو مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا