آزاد کشمیر کے مزید 2 وزراء حکومت سے علیحدہ‘ وزیراعظم چودھری انوار الحق پر سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
مظفرآباد (نامہ نگار) وزیر خزانہ آزاد کشمیر عبدالماجد خان اور وزیر خوراک چوہدری اکبر ابراہیم نے حکومت سے علحیدگی کا اعلان کر دیا اور وزیر اعظم آزاد کشمیر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرینِ مقیمِ پاکستان کے حقوق غصب کئے گئے ہیں۔ وزراء نے مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر سنگین نوعیت کے سیاسی، آئینی، مالی اور انتظامی الزامات عائد کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حکومت نے مہاجرینِ مقیمِ پاکستان کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے، نفرت انگیز بیانیہ فروغ دیا ہے، اور ریاستی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ عبدالماجد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ریاست میں ایک خطرناک اور منظم نفرت انگیز بیانیہ تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد ''مہاجرینِ مقیمِ پاکستان اور مقامی شہریوں '' کے درمیان تفریق پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا یہ پہلی بار ہے کہ ریاست کے اندر نفرت کو بنیاد بنا کر سیاست کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مہاجرین کو ہدف بنایا گیا، انہیں غدار اور لوٹ مار کرنے والا قرار دیا گیا۔ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کو مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔