اسلام آباد ( نیوزڈیسک) یورپی یونین نے پاکستان میں سیلاب سے شدید متاثرہ آبادیوں کے لیے 30 لاکھ یورو کی اضافی ہنگامی امداد کا اعلان کردیا۔

یورپی یونین کی ہنگامی امداد پنجاب کے اُن علاقوں میں خرچ کی جائے گی جو حالیہ مون سون میں بدترین تباہی کا شکار ہوئے۔

یورپی یونین کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ امداد نقد معاونت کی صورت میں دی جائے گی تاکہ شدید متاثرہ افراد کی بنیادی ضروریات فوری پوری کی جاسکیں۔

یورپی یونین کی جانب سے ستمبر میں بھی 10 لاکھ 50 ہزار یورو فراہم کیے گئے تھے جو صحت، صاف پانی، صفائی اور دیگر ضروری خدمات کے لیے استعمال ہوئے۔

رواں سال کی مون سون بارشوں سے ملک بھر میں تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر جبکہ 29 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے، سیلاب سے ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں اور دو لاکھ سے زیادہ گھروں سمیت زرعی اراضی اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

یورپی یونین حکام نے بتایا کہ رواں سال مون سون پاکستان کے لیے انتہائی تباہ کن رہا، پنجاب کو گزشتہ 40 برسوں کی بدترین سیلابی صورتحال کا سامنا رہا، لوگوں کے گھر، سامان، فصلیں اور مویشی پانی میں بہہ گئے۔

حکام کے مطابق یورپی یونین کی یہ امداد ہماری عالمی یکجہتی کا اظہار ہے اور یہ ان متاثرہ خاندانوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی، حالیہ امداد کے بعد یورپی یونین کی جانب سےرواں سال پاکستان کو ملنے والی امداد ایک کروڑ 45 لاکھ یورو سے تجاوز کر گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یورپی یونین کی کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا