ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش، اعلیٰ سطحی ملاقات طے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پنجاب اور سندھ حکومتوں کے درمیان حالیہ دنوں میں جاری بیان بازی اور سیاسی تناؤ کے بعد مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ایک اہم ملاقات طے پا گئی ہے، جس کا مقصد باہمی اختلافات کا جائزہ لینا اور کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ن لیگ کی نمائندگی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ کریں گے جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، ندیم افضل چن اور قمر زمان کائرہ شامل ہوں گے۔ ملاقات میں خاص طور پر پنجاب حکومت سے متعلق پیپلز پارٹی کے تحفظات پر گفتگو کی جائے گی جن میں بلاول ہاؤس لاہور کی سکیورٹی واپس لینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
یہ سیاسی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حالیہ تقریر میں بلاواسطہ طور پر پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کی، جس کے جواب میں سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کے دوران پنجاب حکومت کو سخت الفاظ میں نشانہ بنایا۔ اس بیان بازی کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے اور سیاسی فضا تناؤ کا شکار ہو گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کو مداخلت کا ٹاسک سونپا، جنہوں نے بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور ن لیگ کے اعلیٰ سطحی وفد کو پیپلز پارٹی کی قیادت سے مذاکرات کے لیے نوڈیرو بھیجا۔ اس ملاقات میں دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا کہ بیان بازی بند کی جائے گی اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ بیان میں کہا کہ مقابلہ کسی شہر یا صوبے سے نہیں بلکہ پورے ملک سے ہوتا ہے اور اس میں ہم نمبر ون ہیں۔ یہ بیان ایک طرح سے اس بحث کا حصہ تھا جو دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی برتری کے حوالے سے جاری تھی۔ اگرچہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، مگر یہ ملاقات اور اس میں ہونے والا اتفاق اس بات کی علامت ہے کہ دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سیاسی درجہ حرارت نیچے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت جب ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، یہ پیشرفت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط بہتر ہونے کی امید ہے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے کے درمیان
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔