پنجاب اور سندھ حکومتوں کے درمیان حالیہ دنوں میں جاری بیان بازی اور سیاسی تناؤ کے بعد مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ایک اہم ملاقات طے پا گئی ہے، جس کا مقصد باہمی اختلافات کا جائزہ لینا اور کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ن لیگ کی نمائندگی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ کریں گے جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، ندیم افضل چن اور قمر زمان کائرہ شامل ہوں گے۔ ملاقات میں خاص طور پر پنجاب حکومت سے متعلق پیپلز پارٹی کے تحفظات پر گفتگو کی جائے گی جن میں بلاول ہاؤس لاہور کی سکیورٹی واپس لینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
یہ سیاسی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حالیہ تقریر میں بلاواسطہ طور پر پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کی، جس کے جواب میں سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کے دوران پنجاب حکومت کو سخت الفاظ میں نشانہ بنایا۔ اس بیان بازی کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے اور سیاسی فضا تناؤ کا شکار ہو گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کو مداخلت کا ٹاسک سونپا، جنہوں نے بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور ن لیگ کے اعلیٰ سطحی وفد کو پیپلز پارٹی کی قیادت سے مذاکرات کے لیے نوڈیرو بھیجا۔ اس ملاقات میں دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا کہ بیان بازی بند کی جائے گی اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ بیان میں کہا کہ مقابلہ کسی شہر یا صوبے سے نہیں بلکہ پورے ملک سے ہوتا ہے اور اس میں ہم نمبر ون ہیں۔ یہ بیان ایک طرح سے اس بحث کا حصہ تھا جو دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی برتری کے حوالے سے جاری تھی۔ اگرچہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، مگر یہ ملاقات اور اس میں ہونے والا اتفاق اس بات کی علامت ہے کہ دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سیاسی درجہ حرارت نیچے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت جب ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، یہ پیشرفت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط بہتر ہونے کی امید ہے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے کے درمیان

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات