توشہ خانہ کیس میں جلدی فیصلہ کی کوشش سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے، فہیم خان
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ایک بیان میں رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلی سہیل آفریدی کی حلف برداری عمران خان کی نظریاتی سیاست اور آئینی تسلسل کی فتح ہے، پشاور ہائی کورٹ نے عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کر کے جمہوریت کو مضبوط کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریکِ انصاف کراچی کے سینئر نائب صدر و سابق ایم این اے فہیم خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سرپرست اعلی عمران خان کو 804 دنوں سے غیر قانونی اور غیر انسانی طور پر قید میں رکھا گیا ہے، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ڈیتھ سیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے جبکہ جیل انتظامیہ عدالت کے احکامات کے باوجود انہیں ذاتی معالج اور اہلِ خانہ سے ملنے نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی کے مقدمات میں بار بار تاخیر انصاف کے قتل کے مترادف ہے، اور حکومت عدلیہ پر دبا ڈال کر سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ فہیم خان نے توشہ خانہ II کیس میں جلدی فیصلے کی کوشش کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے تاکہ عمران خان اور بشری بی بی کو ایک اور سزا دے کر جیل میں رکھا جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نواز شریف، آصف زرداری اور مریم نواز کے توشہ خانہ اسکینڈلز پر خاموشی انصاف کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے۔ فہیم خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلی سہیل آفریدی کی حلف برداری عمران خان کی نظریاتی سیاست اور آئینی تسلسل کی فتح ہے، پشاور ہائی کورٹ نے عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کر کے جمہوریت کو مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی متحد ہیں اور عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پی ٹی آئی کراچی کے رہنما نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم عدلیہ کو ایگزیکٹو کے تابع بنانے کی سازش ہے۔ فہیم خان نے مطالبہ کیا کہ اس ترمیم کے خلاف کیس فل کورٹ میں سنا جائے تاکہ عدلیہ کی ساکھ بحال ہو۔انہوں نے کہا کہ جن ججوں کو ترمیم سے فائدہ ہوا، وہ خود اس کے مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتے۔
فہیم خان نے مریدکے میں تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر ریاستی تشدد اور خواتین کی گرفتاریوں کو غیر انسانی اور ظالمانہ عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے ایک بار پھر ماڈل ٹاؤن جیسا ظلم دہرایا ہے، احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر حکومت مخالف آوازوں کو گولی سے دبانے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مریدکے واقعے کی عدالتی انکوائری کرائی جائے، زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جائے، گرفتار خواتین کو رہا کیا جائے اور میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ فہیم خان نے اسرائیل کے فلسطینی عوام پر مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ فہیم خان نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی مینڈیٹ کے تحفظ اور ریاستی جبر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فہیم خان نے پی ٹی آئی
پڑھیں:
نون لیگ وفاقی وزراء کو بلا کر الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے، سعدیہ دانش
پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حفیظ الرحمن صاحب بار بار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے کیا دیا؟ بہتر ہوتا کہ وہ تاریخ سے نظریں نہ چراتے، گلگت بلتستان کو بااختیار بنانے کا فیصلہ، اسے شناخت دینے کا فیصلہ، اسے نام اور سیاسی حیثیت دینے کا فیصلہ یہ سب کچھ صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی نے کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حفیظ الرحمن صاحب بار بار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے کیا دیا؟ بہتر ہوتا کہ وہ تاریخ سے نظریں نہ چراتے، گلگت بلتستان کو بااختیار بنانے کا فیصلہ، اسے شناخت دینے کا فیصلہ، اسے نام اور سیاسی حیثیت دینے کا فیصلہ یہ سب کچھ صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی نے کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ وزیرِ اعلیٰ کے منصب پر بیٹھے ہیں تو یہ اسی سیاسی خودمختاری کا نتیجہ تھا جس کی بنیاد پیپلز پارٹی نے رکھی۔ یہ احسان نہیں، عوام کا حق تھا اور پیپلز پارٹی نے وہ حق دلایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں ظرف درکار ہوتا ہے۔ بڑے پن کا تقاضا ہے کہ اپنے مخالفین کے اچھے اقدامات کا اعتراف کیا جائے۔ لیکن شاید آپ کی جماعت اس سیاسی اخلاق کو اب تک نہیں سیکھ پائی۔ پیپلز پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سیاسیی کامیابیوں نے مسلم لیگ نون کو اس قدر پریشان کر دیا ہے کہ وفاقی وزراء کو بلا کر آئندہ انتخابات پر اثرانداز ہونے کی بے سود کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عوام ان ناپختہ حربوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میری گزارش ہے کہ پہلے اپنی پارٹی کو درست سمت میں لے آئیں، اندرونی انتشار کو ختم کریں، کوئی بڑا جلسہ کریں پھر پیپلز پارٹی پر بات کریں۔ گلگت بلتستان کے باشعور عوام بہت خوب سمجھتے ہیں کہ کون اس خطے کا خیرخواہ ہے اور کون محض الزام تراشی کی سیاست کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ اگر تاریخ سے انصاف کیا جائے تو یہ سوال پوچھنا ہی کسی جماعت اور کسی سیاسی شخص کی سیاسی کمزوری اور کم علمی کو ظاہر کرتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام شعور رکھتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس خطے کو حقوق کس نے دیے، اور کس نے محض اقتدار کے بعد شکوے شکایتوں کو سیاست بنا لیا۔ آپ کی جماعت سے اتنی سی گزارش ہے کہ اپنے اندر جھانک کر دیکھے۔ سیاسی کردار سازی اور جمہوری تربیت کا شدید فقدان ہے، وفاقی وزراء کو کھینچ کر لانے اور قبل از انتخابات پر اثراندازی کی ناکام کوششوں سے بھی صاف ظاہر ہو رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت اور مضبوط نیٹ ورک نے ان کے اعصاب واضح طور پر شل کر دیے ہیں۔
سعدیہ دانش نے بیان میں مزید کہا کہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ سیاسی اخلاق کا پہلا اصول اپنے مخالفین کے اچھے کاموں کا اعتراف ہے مگر شاید یہ صلاحیت ابھی آپ کی جماعت میں جنم نہیں لے سکی۔ میری تجویز ہے کہ پیپلز پارٹی پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنی جماعت کے بے شمار انتظامی اور سیاسی تضادات پر نظر ڈالیں۔ گلگت بلتستان کے عوام جانتے ہیں کہ کون اس خطے کے مفاد میں کھڑا ہے اور کون صرف الزام تراشی کی سیاست پر گزارا کر رہا ہے۔ دراصل دس دن کی کمپیئن کے بعد دو وفاقی وزراء کو بلا کر پورے گلگت بلتستان سے تین سو لوگ جمع کر کے جلسی کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی جماعت کی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے بیانات دینے پر مجبور ہوتا ہے۔