آزاد کشمیر کے مزید 3 وزرا مستعفی، تعداد 4 ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
وزیر خزانہ عبدالماجد خان اور وزیر خوراک اکبر ابراہیم نے پریس کانفرنس میں استعفیٰ دینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ باقاعدہ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں، انوارالحق حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت اپنے افق پر پہنچ گیا ہے، آزاد جموں و کشمیر کی اتحادی حکومت میں شامل مزید تین وزراء نے استعفیٰ دیدیا ہے، مستعفی وزراء کی تعداد 4 تک پہنچ گئی۔ آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات محمد مظہر سعید کے استعفیٰ کے بعد وزیر خزانہ عبدالماجد خان، وزیر خوراک اکبر ابراہیم اور وزیر سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر نے بھی وزیراعظم انوارالحق کو استعفیٰ دیدیا ہے۔ وزیر خزانہ عبدالماجد خان اور وزیر خوراک اکبر ابراہیم نے پریس کانفرنس میں استعفیٰ دینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ باقاعدہ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں، انوارالحق حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم انوارالحق کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ مہاجرین جموں و کشمیر کی نشستیں نکال کر یہ نظام نہیں چل سکتا ہے، ریاست کے حالات جان بوجھ کر خراب کئے گئے۔ مستعفی وزرا کا کہنا تھا کہ اس سارے نظام کو لپیٹنے کے لیے تمام چیزوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔ عبدالماجد خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے دو بجٹ میں ہیلتھ کارڈ کا اجراء شامل تھا جان بوجھ کر اجراء نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو پہلے ہی منظور کیا جا سکتا تھا، جان بوجھ اس میں تاخیر کی گئی اور مزید مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی ڈالا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عبدالماجد خان کہا کہ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔