Express News:
2026-07-24@05:02:00 GMT

ریاست کے مخالفین اتنے آزاد کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

ساڑھے تین سال قبل جب پی ٹی آئی کی حکومت کا آئینی طور خاتمہ ہوا تھا تو سب سے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میری حکومت ختم کرانے کے بجائے پاکستان پر ایٹم بم گرا دیا جاتا۔ اس ملک دشمن بیان پر پی ڈی ایم حکومت نے خاموشی اختیار کی تھی اور کوئی ردعمل نہیں دیا تھا اور سب نے اسے ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ دس اپریل 2022 کا بانی پی ٹی آئی کے خلاف اجلاس اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے غیر آئینی طور پر منسوخ کر دیا تھا جس کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا تھا اور غیر آئینی اقدامات کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی اجازت دی تھی مگر نئی حکومت والے پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہر غیر قانونی بیان کو نظرانداز کر گئے تھے۔

پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے تحریک عدم اعتماد کے اجلاس کو اپنے ڈپٹی اسپیکر کی طرف سے غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کرنے کی تگ و دو کے بعد اپنے صدر مملکت عارف علوی کو قومی اسمبلی توڑنے کا حکم دیا تھا جس کی صدر علوی نے فوری تعمیل کی تھی مگر سپریم کورٹ نے صدر علوی کا اقدام غیر قانونی قرار دے کر قومی اسمبلی نہ صرف بحال کر دی تھی بلکہ تحریک عدم اعتماد کے لیے بلایا گیا اجلاس جاری رکھ کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں تحریک عدم اعتماد منظور ہوئی اور نئے وزیر اعظم منتخب ہو کر حکومت بنائی تھی اور شاید خیرسگالی کے جذبے کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی جس کے بعد سابق حکومت کے وزیر اعظم نے سائفر کی بنیاد پر امریکا پر اپنی حکومت ختم کرانے کا الزام لگا کر پاکستان و امریکا کے تعلقات خراب کرنے کی باقاعدہ مہم شروع کر دی تھی اور نئی حکومت خاموش رہی تھی کیونکہ چار سال سے اقتدار سے محروم حکومتی پارٹیاں مزید مسائل میں الجھنا نہیں چاہتی تھیں۔

اقتدار سے محرومی کے بعد سابق وزیر اعظم کے حکم پر ان کے دور کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے پنجاب و کے پی کے، پی ٹی آئی کے وزرائے خزانہ کو کہا تھا کہ وہ اپنی حکومتوں کی طرف سے آئی ایم ایف کو لیٹر بھیجیں کہ وہ قرضوں کے لیے نئی حکومت کی درخواست قبول نہ کرے کیونکہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت قرضوں کی ادائیگی کی ذمے دار نہیں ہوگی۔ اس وقت ملک معاشی تباہی کا شکار اور دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور سابق وزیر اعظم بھی یہی چاہتے تھے اور ان کی بھرپور کوشش تھی کہ پی ڈی ایم حکومت جلد ناکام ہو جائے اور الیکشن کے ذریعے وہ قومی اسمبلی میں پنجاب و کے پی حکومتوں کو استعمال کرکے دوبارہ وزیر اعظم بن سکیں۔

پی ڈی ایم حکومت معاشی ابتر صورتحال کے باعث دباؤ میں آ کر قبل ازوقت الیکشن کا سوچ رہی تھی کہ سابق حکومت کے برطرف وزیر اعظم نے مزید دباؤ بڑھانے کے لیے ملک میں جلسوں کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا تھا کیونکہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن کر مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے تھے مگر حکومت دھمکیوں میں نہیں آئی اور اس نے اپنی 2023 تک کی بقایا مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کو نیا قرض دینے پر راضی کیا اور دوست ممالک کی وجہ سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا تھا جو سابق وزیر اعظم کو منظور نہ تھا۔ برطرف وزیر اعظم نے حصول اقتدار کے لیے مقتدر قوتوں کی حمایت دوبارہ حاصل کرنا چاہی مگر مقتدر قوتوں نے سیاست میں مداخلت سے انکار کیا اور چیئرمین پی ٹی آئی نے نئے آرمی چیف کی تقرری روکنے کی کوشش کی مگر لانگ مارچ کرکے بھی ناکام رہے۔

انھوں نے اپنی برطرفی کا ذمے دار مقتدر قوتوں سمیت مختلف قوتوں کو قرار دیا مگر بعد کے اقدامات نے پی ٹی آئی کو بری طرح مایوس کیا اور اس کے چیئرمین نے ہار نہ مانی اور وہ حکومت مخالف مہم میں ناکامی کے بعد ریاست مخالف مہم پر اتر آئے جس میں پی ٹی آئی کے مفرور رہنما اور ملک سے بھاگے ہوئے بعض اینکر بھی شامل ہو گئے اور سب نے مل کر ریاست کے خلاف مہم شروع کی جس کے نتیجے میں دو سال قبل سانحہ 9 مئی بھی رونما کرایا گیا۔ ملک کی تاریخ میں 9 مئی بدترین سانحہ تھا جس پر بانی پی ٹی آئی اور متعدد رہنما گرفتار ہوئے مگر بانی نے قید میں رہ کر صرف اپنی رہائی کی کوشش کو ترجیح دے رکھی ہے اور آئے دن احتجاج معمول بنا رکھا ہے۔

کبھی الزام تراشی کبھی مذاکرات کی کوشش مگر کہیں کامیابی نہ ملی۔ پی ٹی آئی حکومت میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہونے دیا گیا تھا بلکہ دہشت گردوں کو واپس لا کر ان کی سرپرستی کی گئی۔ پی ٹی آئی کی کے پی حکومت آپریشن میں رکاوٹ ڈالتی رہی اور مزید مخالفت کے لیے نیا وزیر اعلیٰ بنوا کر ریاست کی مخالفت کی انتہا پر آگئے ۔ اب وزیر اعظم بھی کہہ رہے ہیں کہ بہت ہو گیا اگر ان کی حکومت شروع میں ہی سخت پالیسی اپنا لیتی تو ریاست دشمن آپے سے باہر نہ ہوتے مگر انھیں نہ جانے کیوں آزادی دی گئی؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے نئی حکومت دیا تھا کے خلاف کیا اور کے لیے تھا جس کے بعد

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع