ایچ ای سی میں مستقل چیئرمین نہیں، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری میں عجلت کی جا رہی ہے، ڈاکٹر محسن
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر ڈاکٹر محسن علی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں مستقل چیرمین نہ ہونے کے باوجود اہم ترین عہدے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری میں عجلت کی جارہی ہے، ایسے جانچ کا عمل تشکیل دیا گیا ہے کہ جس میں بڑی جامعات اور اداروں کے سربراہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا عہدہ محض انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ قومی سطح پر پالیسی سازی، مالیاتی نظم و نسق اور جامعات کے ساتھ براہِ راست رابطے کا محور ہے۔
ایچ ای سی اس وقت 60 ارب روپے کے سالانہ ری کرنٹ گرانٹ اور 39 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا انتظام سنبھالتا ہے۔
ڈاکٹر محسن نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو نہ صرف 262 سرکاری و نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور اساتذہ سے براہ راست رابطہ رکھنا ہوتا ہے بلکہ 15 لاکھ سے زائد طلبہ کے تعلیمی مفادات اور بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اشتراک بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت ہے جب کہ تعلیم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ہیں جن کا تعلق خود کراچی سے ہے، لہٰذا ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فل ٹائم چیئرمین کی تقرری سے قبل ایسے کلیدی عہدے کے لیے بھرتی کا عمل مؤخر کیا جائے تاکہ شفافیت، میرٹ اور اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے۔ بصورت دیگر یہ عمل ایک اور متنازع باب کے طور پر وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کی تاریخ میں درج ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایگزیکٹو ڈائریکٹر
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔