ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایت پر سندھ بھر میں ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کی ہنگامی مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
وزیرِ صحت سندھ نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں دن رات عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں، صورتحال کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں اسپرے اور احتیاطی سرگرمیوں کی رفتار مزید تیز کر دی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِ صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایت پر صوبے بھر میں ڈینگی اور ملیریا سے بچانے کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی اور حفاظتی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ویکٹر بورن ڈیزیزز وِنگ، ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کی جانب سے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، بلدیاتی اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر مثر اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے حکومت سندھ کی تمام مشینری متحرک کر دی گئی ہے، رواں سال ڈینگی کے 819 اور ملیریا کے 2 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، ہر ضلع میں اسپرے، فوگنگ، اور آگاہی پروگرامز کو روزانہ کی بنیاد پر یقینی بنایا جائیگا، عوامی تعاون سے جلد اس وبا پر قابو پا سکتے ہیں، اس لیے عوام بھی اپنا کردار ادا کریں، تمام اضلاع میں لاروہ کش مہم، فوگنگ، اسپریاور آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اسکولوں، اسپتالوں، مارکیٹوں، بس اسٹاپس، اور عدالتوں سمیت عوامی مقامات پر بینرز، پمفلٹس، اور آگاہی مواد آویزاں کیا جا رہا ہے۔ تمام ڈی ایچ اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقامی حکومت کے ساتھ مل کر مچھر کی افزائش کے مقامات ختم کریں،گھروں اور گلیوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں، جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گھر گھر جا کر آگاہی دینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے مزید کہا کہ ڈینگی قابلِ انسداد بیماری ہے، اگر ہم صفائی ستھرائی اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو اس وباء کو جلد ختم کیا جا سکتا ہے، محکمہ صحت کی ٹیمیں دن رات عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں، صورتحال کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں اسپرے اور احتیاطی سرگرمیوں کی رفتار مزید تیز کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دی گئی ہے اور ملیریا کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔