امریکا؛ ایوارڈز تقریب میں مداح ہانیہ عامر پر ٹوٹ پڑے؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
خوبصورت اور چنچل اداکارہ ہانیہ عامر امریکا میں ہونے والی ڈراما ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں لیکن انھیں ناخوشگوار واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہانیہ عامر اپنی گاڑی سے اتر کر پنڈال میں داخل ہونے والی تھیں کہ درجنوں مداحوں نے گھیرے میں لے لیا۔
مداحوں کے بے حد رش میں پھنسی ہانیہ نے خوش مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصاویر بنوائیں اور آٹو گراف دیئے لیکن رش بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
ہر مداح کی خواہش تھی کہ اپنی پسندیدہ اداکارہ کے ساتھ الگ اور خصوصی تصاویر بنوائیں اور اسی دھکم پیل میں افراتفری پھیل گئی۔
A post common by ayat loves hania???????? (@haniaxforeverr)
ایک موقع پر ہانیہ عامر گرتے گرتے بھی بچی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے معاملے کو سنبھالا اور مداحوں کے نرغے سے ہانیہ عامر کو نکال کر تقریب میں پہنچایا۔
یاد رہے کہ اس ایوارڈ تقریب میں ہانیہ عامر نے گلوبل اسٹار ایوارڈ اپنے نام کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔